7

روس کو شمالی کوریا سے فوجی دستے اور میزائل مل رہے ہیں، زیلنسکی

یوکرین کے صدر ولودیمیر زیلنسکی نے دعویٰ کیا ہے کہ روس شمالی کوریا کی مدد کے بغیر یوکرین کے خلاف جنگ جاری رکھنے کی صلاحیت کھو چکا ہے۔

زیلنسکی کے مطابق روس کی تاریخ میں پہلی بار اس کے پاس کوئی اسٹریٹجک ذخیرہ باقی نہیں رہا اور ماسکو کو جنگ جاری رکھنے کیلئے شمالی کوریا کی فوجی مدد پر انحصار کرنا پڑ رہا ہے۔

یوکرینی صدر نے دعویٰ کیا کہ روس کو شمالی کوریا سے مزید فوجی دستے اور بیلسٹک میزائل موصول ہو رہے ہیں، جبکہ شمالی کوریا کے 30 ہزار سے 50 ہزار فوجیوں کو روس میں تعینات کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

ان کے مطابق شمالی کوریا کی جانب سے روس کو فراہم کی جانے والی فوجی معاونت یوکرین کے خلاف جنگ میں ماسکو کی مدد کر رہی ہے۔

زیلنسکی نے کہا کہ روس اور شمالی کوریا کے درمیان بڑھتا ہوا فوجی تعاون صرف یوکرین کیلئے خطرہ نہیں بلکہ اس کے دور رس اثرات دیگر ممالک تک بھی پہنچ سکتے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ یوکرین کے خلاف جنگ میں شمالی کوریا کے میزائلوں اور فوجیوں کی شمولیت سے پیانگ یانگ کو حقیقی جنگی حالات میں اپنے ہتھیاروں اور فوجی صلاحیتوں کو آزمانے کا تجربہ حاصل ہو رہا ہے۔

واضح رہے کہ زیلنسکی کے یہ دعوے یوکرین کی جانب سے سامنے آئے ہیں، جن کی آزاد ذرائع سے تصدیق اس رپورٹ میں نہیں کی گئی۔