11

جاپانی سوشل میڈیا انفلوئنسرنے لائیو اسٹریمنگ کے دوران خودکشی کرلی

جنوبی کوریا میں مقیم 26 سالہ جاپانی سوشل میڈیا انفلوئنسر اور کے پاپ گروپ ENHYPEN کی مداح مینا چن کی موت کے بعد آن لائن ہراسانی اور فین کلچر کے حوالے سے نئی بحث شروع ہوگئی۔

رپورٹس کے مطابق مینا چن کے ٹک ٹاک پر 80 ہزار سے زائد فالوورز تھے اور وہ کے پاپ سے متعلق مواد اور اپنی سرگرمیوں کے باعث سوشل میڈیا پر خاصی مقبول تھیں۔

جنوبی کوریا کے میڈیا کے مطابق مینا چن اپنے گھر سے سوشل میڈیا پر لائیو تھیں، جس کے دوران بعض صارفین نے حکام سے مدد کی اپیل کی۔ پولیس کو ان کے ایک جاننے والے کی جانب سے اطلاع دی گئی، جس کے بعد اہلکار موقع پر پہنچے۔

مینا چن کی موت کی تصدیق ان کی چھوٹی بہن نے انسٹاگرام اسٹوری کے ذریعے کی۔ انہوں نے اپنی بہن کو یاد کرتے ہوئے مداحوں سے ان کے لیے دعا کی درخواست کی۔

رپورٹس کے مطابق موت سے قبل مینا چن کو ENHYPEN کے بعض مداحوں کی جانب سے سوشل میڈیا پر شدید تنقید اور مبینہ ہراسانی کا سامنا تھا۔ یہ معاملہ گزشتہ ماہ امریکا میں گروپ کے ایک شو کے دوران پیش آنے والے واقعے کے بعد زیادہ نمایاں ہوا۔

مینا چن نے 31 جولائی کو سوشل میڈیا پر ایک وضاحتی پیغام اور معذرت بھی جاری کی تھی، جس میں انہوں نے اپنے رویے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے گروپ کے رکن اور مداحوں سے معافی مانگی تھی۔

ان کی موت کے بعد سوشل میڈیا پر بعض صارفین نے فین کمیونٹی میں نفرت، آن لائن ہراسانی اور الزام تراشی کے رجحان پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

تاہم مینا چن کی موت کی حتمی وجہ کے حوالے سے جنوبی کوریا کی پولیس کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ حتمی بیان سامنے نہیں آیا۔ آن لائن ہراسانی اور موت کے درمیان تعلق سے متعلق دعوؤں کی بھی حتمی قانونی تصدیق ہونا باقی ہے۔