کراچی: اغوا برائے تاوان اور کرپٹو کرنسی لوٹنے کے مقدمے میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں پولیس نے اپنی تفتیش مکمل کرنے کے بعد معروف اداکار منیب بٹ کو بے گناہ قرار دے دیا۔
کراچی کی انسدادِ دہشت گردی کی منتظم عدالت میں مقدمے کی سماعت کے دوران منیب بٹ کے وکیل نے عدالت سے ضمانت کی درخواست واپس لینے کی استدعا کی۔ وکیلِ صفائی نے مؤقف اختیار کیا کہ پولیس نے اپنے چالان میں منیب بٹ کو بے گناہ قرار دیا ہے، اس لیے ضمانت کی درخواست برقرار رکھنے کی ضرورت نہیں رہی۔
پولیس کے مطابق مقدمے میں ملزمان پر الزام ہے کہ انہوں نے مدعی محمد متعال کو اغوا کرکے تقریباً 24 لاکھ 94 ہزار روپے مالیت کی کرپٹو کرنسی اور دیگر قیمتی سامان چھین لیا تھا۔
تحقیقات کے دوران منیب بٹ پر صرف یہ الزام تھا کہ انہوں نے مبینہ ملزمان کو مری میں رہائش دلوانے میں مدد فراہم کی، تاہم مکمل تفتیش کے بعد پولیس کو ان کے خلاف کوئی قابلِ اعتماد ثبوت نہیں ملا، جس کے باعث انہیں چالان میں بے گناہ قرار دیا گیا۔
پولیس کا مزید کہنا ہے کہ مقدمے میں نامزد ایک پولیس اہلکار غالب تاحال مفرور ہے، جبکہ دیگر ملزمان میں شاہد ستار، محمد سلیم، علیم اور وزیر محمد شامل ہیں۔
تحقیقات کے مطابق ملزمان نے 23 اپریل کو شاہراہِ فیصل سے محمد متعال کو اغوا کیا، ان سے کرپٹو کرنسی اور دیگر قیمتی سامان چھیننے کے بعد انہیں کورنگی انڈسٹریل ایریا میں چھوڑ دیا تھا۔









