ایران نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے امریکی حملوں کے جواب میں شام کے علاقے التنف میں امریکی اہداف کو نشانہ بنایا ہے، جبکہ خطے کے دیگر ممالک میں بھی حملوں کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ تاہم امریکی حکام کا کہنا ہے کہ جس مقام پر حملے کا دعویٰ کیا گیا وہاں امریکی فوج پہلے ہی انخلا کر چکی تھی۔
ایرانی پاسداران انقلاب کے قریب سمجھے جانے والے خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق، پاسداران انقلاب نے ایک بیان میں کہا کہ شام کے علاقے التنف میں حملہ ایرانشہر پر ہونے والے امریکی حملوں کے جواب میں کیا گیا۔
دوسری جانب امریکی سینٹرل کمانڈ (CENTCOM) نے واضح کیا ہے کہ امریکی افواج فروری میں ہی التنف گیریژن خالی کر چکی تھیں اور وہاں کوئی امریکی فوجی موجود نہیں تھا۔ امریکی حکام کے مطابق یہ فیصلہ شام میں فوجی موجودگی کم کرنے کی حکمت عملی کا حصہ تھا۔
رپورٹس کے مطابق گزشتہ دو روز کے دوران اردن میں بھی حملوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں، جبکہ قطر، بحرین اور کویت بھی حالیہ کشیدگی کے دوران ایرانی حملوں کی زد میں آنے والے ممالک میں شامل ہیں۔
شامی حکام نے التنف میں ہونے والے مبینہ حملے کی نوعیت یا اس کے ممکنہ نقصانات سے متعلق فوری طور پر کوئی تفصیلات جاری نہیں کیں۔
امریکی حکام کا کہنا ہے کہ شام میں امریکی فوج کا بنیادی مشن داعش کے خلاف کارروائیوں میں اتحادی افواج کی معاونت تھا، تاہم فروری میں التنف فوجی اڈہ خالی کر کے اس کا کنٹرول شامی حکام کے حوالے کر دیا گیا۔
علاقائی کشیدگی میں اضافے کے باعث مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال مسلسل غیر یقینی کا شکار ہے، جبکہ مختلف ممالک کی جانب سے سکیورٹی صورتحال کا مسلسل جائزہ لیا جا رہا ہے۔









