پاکستان تحریک انصاف کی سینیٹر مشعال یوسفزئی نے الزام عائد کیا ہے کہ خیبر پختونخوا میں گزشتہ 20 روز سے انسانی حقوق کی سنگین پامالیاں جاری ہیں، جبکہ گورنر راج اور ایمرجنسی کے نام پر عوامی مینڈیٹ کو متاثر کیا جا رہا ہے۔
سینیٹ اجلاس میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے مشعال یوسفزئی نے کہا کہ خیبر پختونخوا اور بلوچستان ملک کے سب سے زیادہ محروم علاقوں میں شامل ہو چکے ہیں۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ خیبر پختونخوا کے ساڑھے چار کروڑ عوام کے منتخب وزیراعلیٰ اور اسپیکر کے مینڈیٹ پر شب خون مارا گیا ہے۔ ان کے مطابق دہشتگردی کے بیانیے کی آڑ میں عوامی مینڈیٹ کو چرایا گیا۔
مشعال یوسفزئی نے الزام عائد کیا کہ خیبر پختونخوا سے ارکان اسمبلی کو لاپتہ کیا جا رہا ہے، جبکہ تحریک انصاف کے پرچم اور تختیاں بھی ہٹائی جا رہی ہیں۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا دہشتگرد پارٹی کے جھنڈوں کی شکل میں نظر آتے ہیں؟ ان کا کہنا تھا کہ دہشتگردی کے خلاف اقدامات کی آڑ میں سیاسی سرگرمیوں کو نشانہ نہیں بنایا جانا چاہیے۔
گورنر راج اور ایمرجنسی پر تحفظات
پی ٹی آئی سینیٹر نے کہا کہ گورنر راج اور ایمرجنسی کے نام پر چادر اور چار دیواری کے تقدس سمیت پختون روایات کو پامال کیا جا رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف نے حکومت میں رہتے ہوئے بھی اپنے سیاسی مخالفین کی چادر اور چار دیواری کے تقدس کو پامال نہیں کیا۔
مشعال یوسفزئی نے مطالبہ کیا کہ خیبر پختونخوا میں انسانی حقوق کے تحفظ، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور سیاسی سرگرمیوں کے حوالے سے صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔
واضح رہے کہ مشعال یوسفزئی کے یہ بیانات سینیٹ اجلاس میں اظہارِ خیال کے دوران سامنے آئے۔ ان کی جانب سے عائد کیے گئے الزامات پر متعلقہ حکام کا مؤقف اس بیان میں شامل نہیں ہے۔









