1

’ایل نینو‘ کی شدت پر عالمی موسمیاتی اداروں میں مختلف آراء: طاقت جانچنے کے پیمانے الگ کیوں ہیں؟

لندن / واشنگٹن / ٹوکیو: رواں سال کے ایل نینو کی شدت کے حوالے سے دنیا بھر کے بڑے موسمیاتی اداروں کی آراء میں دلچسپ فرق سامنے آیا ہے۔ جہاں برطانیہ کے میٹ آفس اور جاپان کی موسمیاتی ایجنسی اسے "بے مثال" اور اب تک کا سب سے مضبوط واقعہ قرار دے رہی ہیں، وہیں امریکی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ اب بھی تاریخی ریکارڈ کے چند بڑے واقعات سے پیچھے ہو سکتا ہے۔

ماہرین کے مطابق اس اختلاف کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ دنیا بھر کے موسمیاتی ادارے ایل نینو کی طاقت کو جانچنے کے لیے مختلف پیمانے اور طریقے استعمال کرتے ہیں، جس کی وجہ سے ان کے اعداد و شمار کا براہ راست موازنہ کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔

  • برطانیہ کا میٹ آفس: میٹ آفس کے مطابق وسطی خط استوا کے بحرالکاہل میں سمندری سطح کا درجہ حرارت پچھلے تمام ریکارڈز سے تجاوز کر چکا ہے، اس لیے یہ ایک "بے مثال" ایل نینو ہے۔

  • جاپان کی موسمیاتی ایجنسی : جاپان نے اسے 1949 کے بعد سے اب تک کا سبسی مضبوط واقعہ قرار دیا ہے، جس کی بنیاد مشرقی بحرالکاہل کے ’نینو 3‘ علاقے میں معمول سے زیادہ درجہ حرارت کا موازنہ ہے۔

  • امریکی مؤقف : دوسری طرف امریکہ کا ادارہ  پڑوسی علاقے ’نینو 3.4‘ کا جائزہ لیتا ہے اور موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کے پیش نظر اب نئے انڈیکس کا استعمال کر رہا ہے، جس کے تحت اس کے حتمی ریکارڈ کا فیصلہ ہونا ابھی باقی ہے۔

بحرالکاہل کا ایل نینو سدرن اوسلیشن  سیارے کا سب سے بڑا قدرتی موسمی محرک ہے جو عام طور پر ہر دو سے سات سال بعد ظاہر ہوتا ہے اور نو سے بارہ ماہ تک رہتا ہے۔ اس دوران تجارتی ہوائیں کمزور ہو جاتی ہیں اور گرم پانی مشرق کی طرف امریکہ کی جانب دھکیل دیا جاتا ہے، جس سے دنیا بھر کے موسم پر شدید اثرات مرتب ہوتے ہیں — کچھ علاقے شدید خشک سالی اور کچھ طوفانی بارشوں کی زد میں آ جاتے ہیں۔