2

ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی اپیلوں پر اسلام آباد ہائیکورٹ کے فریقین کو نوٹس جاری

اسلام آباد ہائیکورٹ نے ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کے خلاف بیریئر ہٹانے اور کارِ سرکار میں مداخلت کے مقدمے میں فردِ جرم عائد کرنے اور دہشت گردی کی دفعات ختم کرنے کی درخواستیں مسترد ہونے کے خلاف اپیلوں پر متعلقہ فریقین کو نوٹس جاری کردیے۔

جسٹس انعام امین منہاس اور جسٹس شارخ ارجمند پر مشتمل ڈویژن بینچ نے اپیلوں کی سماعت کی۔ اس موقع پر ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی جانب سے وکیل ریاست علی آزاد، زینب جنجوعہ سمیت دیگر وکلا عدالت میں پیش ہوئے۔

فردِ جرم کی کارروائی چیلنج

سماعت کے دوران وکیل ریاست علی آزاد نے مؤقف اختیار کیا کہ ملزمان کو چالان کی نقول فراہم نہیں کی گئیں اور فردِ جرم عائد کرتے وقت ان کی ذاتی موجودگی بھی نہیں تھی۔ انہوں نے کہا کہ فردِ جرم ٹرائل کی بنیاد ہوتی ہے، اس لیے اس قانونی تقاضے کو پورا کیے بغیر کارروائی آگے نہیں بڑھائی جاسکتی۔

وکیل نے عدالت کو بتایا کہ انسدادِ دہشت گردی عدالت میں دائر درخواستیں مسترد کردی گئی تھیں، جن میں فردِ جرم کے طریقہ کار اور دہشت گردی کی دفعات ختم کرنے سے متعلق درخواست بھی شامل تھی۔ ان فیصلوں کو اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج کیا گیا ہے۔

ویڈیو ریکارڈنگ طلب کرنے کی استدعا

وکیل ریاست علی آزاد نے کہا کہ فردِ جرم پر ان کے دستخط موجود ہیں، تاہم ملزمان کے دستخط موجود نہیں۔ ان کے مطابق دستخط کرتے وقت ملزمان عدالت میں موجود نہیں تھے، اس لیے کارروائی کی ویڈیو ریکارڈنگ طلب کی جانی چاہیے۔

جسٹس انعام امین منہاس نے ریمارکس دیے کہ ملزمان ویڈیو لنک کے ذریعے موجود تھے اور فردِ جرم کے وقت وکیل کی حاضری بھی لگی ہوئی تھی۔ اس پر وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ ملزمان کو جیل میں چالان کی نقول فراہم نہیں کی گئیں اور اس حوالے سے بیانِ حلفی بھی جمع کرایا گیا ہے۔

وکیل نے عدالت سے ٹرائل روکنے کی استدعا بھی کی۔

عدالت نے متعلقہ فریقین کو نوٹس جاری کردیے

اسلام آباد ہائیکورٹ نے اپیلوں پر سماعت کے بعد متعلقہ فریقین کو نوٹس جاری کردیے۔ عدالت نے قرار دیا کہ حکم جاری کرکے آگاہ کیا جائے گا اور متعلقہ فریقین کے پیش ہونے کے بعد معاملے کا جائزہ لیا جائے گا۔

اڈیالہ جیل میں سماعت، گواہ کا بیان ریکارڈ نہ ہوسکا

دوسری جانب اڈیالہ جیل میں انسدادِ دہشت گردی عدالت کے جج طاہر عباس سپرا نے ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کے خلاف بیریئر ہٹانے اور کارِ سرکار میں مداخلت کے مقدمے کی سماعت کی۔

ملزمان کی جانب سے وکیل زینب جنجوعہ پیش ہوئیں، تاہم انہوں نے اپنا وکالت نامہ واپس لے لیا۔ سماعت کے دوران استغاثہ کے کسی گواہ کا بیان ریکارڈ نہ ہوسکا۔

عدالت نے مقدمے کی مزید سماعت 20 اکتوبر کو صبح 10 بجے تک ملتوی کردی۔