سندھ کے ضلع کراچی شرقی میں پولیو کا ایک اور کیس سامنے آگیا، جس کے بعد پاکستان میں رواں سال رپورٹ ہونے والے پولیو کیسز کی مجموعی تعداد 7 ہوگئی ہے۔ نیشنل ایمرجنسی آپریشنز سینٹر (نیشنل ای او سی) نے والدین سے بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے لازمی پلوانے کی اپیل کی ہے۔
نیشنل ای او سی کے مطابق سال 2026 کے دوران ملک میں رپورٹ ہونے والے سات پولیو کیسز میں سے پانچ خیبرپختونخوا جبکہ دو سندھ سے سامنے آئے ہیں۔
حکام کے مطابق کراچی میں اس سے قبل پولیو کا آخری کیس دسمبر 2024 میں رپورٹ ہوا تھا، جبکہ تازہ کیس کراچی شرقی سے سامنے آیا ہے۔
ملک بھر میں انسدادِ پولیو مہم 2 نومبر سے شروع ہوگی
نیشنل ای او سی کے مطابق ملک بھر میں انسدادِ پولیو کی قومی مہم 2 سے 8 نومبر 2026 تک جاری رہے گی۔ اس مہم کے دوران کراچی کے تمام اضلاع سمیت ملک کے 97 اضلاع میں پانچ سال سے کم عمر بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلائے جائیں گے۔
حکام نے بتایا کہ مہم کے دوران 2 کروڑ 39 لاکھ سے زائد بچوں کو پولیو ویکسین پلانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے، تاکہ بچوں کو اس موذی مرض سے محفوظ رکھنے کے لیے حفاظتی اقدامات مزید مؤثر بنائے جاسکیں۔
والدین بچوں کو پولیو کے قطرے لازمی پلوائیں، نیشنل ای او سی
نیشنل ای او سی نے والدین پر زور دیا ہے کہ وہ ہر انسدادِ پولیو مہم کے دوران اپنے پانچ سال سے کم عمر بچوں کو قطرے ضرور پلوائیں۔ اس کے ساتھ بچوں کے حفاظتی ٹیکہ جات کا کورس بھی مقررہ وقت پر مکمل کروائیں۔
پولیو ایک لاعلاج مرض ہے جو بچوں کو مستقل معذوری سے دوچار کرسکتا ہے، تاہم ویکسین کے ذریعے اس سے بچاؤ ممکن ہے۔ حکام کے مطابق پولیو کے مکمل خاتمے کے لیے ہر مہم میں بچوں کو ویکسین پلانا اور والدین کا تعاون نہایت اہم ہے۔









