1

فرانسیسی صدر میکرون اہم دورے پر متحدہ عرب امارات پہنچ گئے

فرانس کے صدر ایمانوئل میکرون سرکاری دورے پر متحدہ عرب امارات پہنچ گئے، جہاں صدر شیخ محمد بن زاید النہیان نے ان کا استقبال کیا۔ دورے کے دوران آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کی آزادی، توانائی کی ترسیل کے راستوں کا تحفظ اور خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی پر تبادلہ خیال متوقع ہے۔

عرب میڈیا کے مطابق میکرون کی ابوظہبی آمد پر ہوائی اڈے پر باضابطہ استقبالیہ تقریب منعقد کی گئی۔ اس موقع پر متحدہ عرب امارات اور فرانس کے قومی ترانے بجائے گئے، جبکہ اعزازی دستے نے فرانسیسی صدر کو سلامی پیش کی۔

آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کی بحالی اہم ایجنڈا

ایمانوئل میکرون کا یہ دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب خلیجی خطے میں کشیدگی اور عالمی توانائی کی ترسیل کو درپیش مشکلات پر تشویش پائی جاتی ہے۔

دورے کا ایک اہم مقصد آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کی آزادی بحال کرنے اور توانائی کی عالمی سپلائی کے راستوں کو محفوظ بنانے کے لیے علاقائی رہنماؤں سے مشاورت کرنا ہے۔

فرانس اور امارات کے درمیان تعاون بڑھانے پر بات چیت

فرانس خلیجی ممالک کے ساتھ دفاع، سلامتی، تجارت اور سرمایہ کاری کے شعبوں میں تعاون مزید مضبوط بنانے کا خواہاں ہے۔ اماراتی قیادت کے ساتھ ملاقات میں ان امور کے علاوہ نئی ٹیکنالوجی اور علاقائی استحکام پر بھی گفتگو متوقع ہے۔

میکرون کا دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب خلیجی ممالک خطے میں کشیدگی کم کرنے اور عالمی توانائی کی ترسیل معمول پر لانے کے لیے سفارتی کوششیں تیز کر رہے ہیں۔

روسی وزیر خارجہ بھی تہران پہنچ گئے

دوسری جانب خلیجی ممالک کی جانب سے ایران پر جنگ بندی کے لیے اپنا اثرورسوخ استعمال کرنے کی اپیل کے تناظر میں روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف بھی تہران پہنچے ہیں۔

خطے میں جاری کشیدگی کے دوران مختلف ممالک کی سفارتی سرگرمیوں کو اہمیت دی جا رہی ہے، جبکہ مذاکرات کے ذریعے تنازعات کم کرنے اور بحری راستوں کو محفوظ بنانے پر توجہ مرکوز ہے۔

توانائی کی عالمی منڈی بھی دباؤ کا شکار

امریکا اور ایران کے درمیان جاری جنگ کے باعث خطے میں توانائی کی تنصیبات اور سمندری نقل و حمل کو خطرات لاحق ہونے کی اطلاعات ہیں۔ ان حالات نے عالمی سطح پر تیل کی فراہمی اور قیمتوں کے حوالے سے خدشات بڑھا دیے ہیں۔

میکرون کے دورۂ امارات کو اسی تناظر میں اہم قرار دیا جا رہا ہے، تاہم علاقائی کشیدگی میں کمی اور آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کی بحالی کے لیے ہونے والی سفارتی کوششوں کے نتائج آئندہ پیش رفت سے واضح ہوں گے۔