2

اسلام آباد ہائی کورٹ کا ضبط شدہ سونے کی واپسی پر کم قیمت کی پیشکش پر برہمی کا اظہار: متعلقہ کلکٹر کو شوکاز نوٹس جاری

اسلام آباد: اسلام آباد ہائیکورٹ نے ضبط شدہ سونے کی اینٹوں کی واپسی کے بدلے پرانی قیمت کے حساب سے رقم ادا کرنے کی پیشکش پر شدید عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ کسٹمز کلکٹر کو توہین عدالت کا شوکاز نوٹس جاری کر دیا ہے اور دو ہفتوں میں جواب طلب کر لیا ہے۔

  • بینچ اور درخواست: اسلام آباد ہائیکورٹ کے ڈویژن بینچ — جس میں جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان اور جسٹس ارباب محمد طاہر شامل ہیں — نے وقار النساء نامی خاتون کی جانب سے دائر توہین عدالت کی درخواست پر یہ اہم حکمنامہ جاری کیا۔

  • سونے کے بجائے رقم کی ادائیگی پر اعتراض: عدالت نے واضح کیا کہ عدلیہ نے درخواست گزار کو اصل سونے کی اینٹیں واپس کرنے کا حکم دیا تھا، نہ کہ اس کے بدلے کم قیمت پر رقم ادا کرنے کا۔ درخواست گزار کے وکیل بیرسٹر دانیال سہیل نے مؤقف اختیار کیا کہ کسٹمز حکام کی جانب سے سونے کی موجودہ مارکیٹ ویلیو کے برعکس 2023 کی کم قیمت مقرر کی گئی ہے۔

  • ریاست کو فائدہ کیوں؟: عدالت نے سخت ریمارکس دیتے ہوئے سوال اٹھایا کہ سونے کی قیمت میں ریکارڈ اضافے کا مالی فائدہ ریاست کو کیوں دیا جائے جبکہ اس کا نقصان غریب شہری یا درخواست گزار کو اٹھانا پڑے؟

دورانِ سماعت کسٹمز حکام نے عدالت کو بتایا کہ ضبط شدہ سونے کی اینٹیں ضابطے کے مطابق اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے حوالے کی جا چکی ہیں اور اب انہیں واپس حاصل نہیں کیا جا سکتا۔ تاہم، عدالت نے حکام کی اس وضاحت کو غیر تسلی بخش قرار دیتے ہوئے کہا کہ قانون کے تحت ضبط شدہ اشیاء کی فروخت اور رقم محفوظ رکھنے کے قواعد موجود ہیں، لیکن سونے کو ناقابلِ واپسی طور پر اسٹیٹ بینک کے حوالے کرنے کا کوئی جواز نہیں۔

ہائیکورٹ نے متعلقہ کلکٹر کو توہینِ عدالت کا شوکاز نوٹس جاری کرتے ہوئے دو ہفتوں کے اندر تحریری جواب جمع کرانے کی ہدایت کی ہے، اور کیس کی مزید سماعت 2 نومبر تک ملتوی کر دی گئی ہے۔