8

8 اسلامی ممالک کا فلسطینیوں کی جبری بے دخلی کی مذمت: پاکستان، سعودی عرب، ترکیہ، مصر، انڈونیشیا، اردن، قطر اور متحدہ عرب امارات کے وزرائے خارجہ کا بیان

انقرہ: پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ سمیت آٹھ اہم اسلامی ممالک نے اسرائیلی وزیر کے غزہ سے فلسطینیوں کو نکالنے سے متعلق بیان کو مسترد کرتے ہوئے اسے بین الاقوامی قانون اور انسانی حقوق کی کھلم کھلا خلاف ورزی قرار دیا ہے۔

ترک وزارت خارجہ کی جانب سے پاکستان، سعودی عرب، ترکیہ، مصر، انڈونیشیا، اردن، قطر اور متحدہ عرب امارات کے وزرائے خارجہ کا مشترکہ بیان جاری کیا گیا ہے۔ بیان میں واضح کیا گیا ہے کہ فلسطینیوں کو ان کی سرزمین سے جبری طور پر بے دخل کرنے کے کسی بھی منصوبے یا بیانات کے خطے میں انتہائی خطرناک اور سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔

مشترکہ اعلامیے میں اس عزم کا اعادہ کیا گیا ہے کہ غزہ مقبوضہ فلسطین کا ناقابلِ تقسیم حصہ ہے، اور پائیدار امن صرف دو ریاستی حل کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ وزرائے خارجہ نے مطالبہ کیا کہ یکم جون 1967 کی سرحدوں کے مطابق آزاد فلسطینی ریاست قائم کی جائے جس کا دارالحکومت مشرقی یروشلم ہو۔ اس کے علاوہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل اور عالمی برادری پر زور دیا گیا ہے کہ وہ مقبوضہ علاقوں میں اسرائیلی بستیوں کی تعمیر اور جغرافیائی تبدیلیوں کو روکنے کے لیے فوری کردار ادا کریں۔