8

قطر، کویت اور عمان میں پاکستانی انڈے منفی فہرست میں شامل، پولٹری صنعت کا انکشاف

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے نیشنل فوڈ سیکیورٹی کے اجلاس میں پولٹری صنعت کے نمائندوں نے انکشاف کیا ہے کہ قطر، کویت اور عمان میں پاکستانی انڈے منفی فہرست میں شامل ہیں، جس کی وجہ سے ملک سے انڈوں کی برآمدات کو شدید نقصان پہنچ رہا ہے۔

حسین طارق کی زیر صدارت ہونے والے اس اجلاس میں سیکرٹری فوڈ سیکیورٹی عامر علی احمد نے لائیو اسٹاک اور گوشت کی برآمدات پر تفصیلی بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ لائیو اسٹاک کا مجموعی ملکی جی ڈی پی میں حصہ پندرہ فیصد جبکہ زراعت کے شعبے میں باسٹھ فیصد ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان سے گوشت کی برآمد کے لیے انتیس ہزار فعال ادارے موجود ہیں، جن میں سے متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب میں سترہ جبکہ ایران میں دس ادارے منظور شدہ ہیں، جبکہ قطر اور عمان سمیت دیگر ممالک میں منظوری کا عمل جاری ہے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ لائیو اسٹاک کی برآمدی صلاحیت میں اضافہ نہ ہونے کی سب سے بڑی وجہ منہ کھر کی بیماری (ایف ایم ڈی) ہے، جس پر قابو پانے کے لیے عالمی معیار کے اقدامات ناگزیر ہیں۔

اجلاس کے دوران پولٹری صنعت کے نمائندوں نے مؤقف اختیار کیا کہ یہ شعبہ پہلے ہی مختلف مشکلات کا شکار ہے اور بھاری ٹیکسوں کے باعث مرغی کی پیداواری لاگت میں ہوشربا اضافہ ہو چکا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ متحدہ عرب امارات میں پاکستانی پولٹری مصنوعات پر بھارت کے مقابلے میں زیادہ ٹیکس عائد کیا جاتا ہے۔ صنعت کاروں نے بتایا کہ قطر میں پاکستانی انڈوں پر پابندی عائد ہے اور قطر، کویت اور عمان جیسے ممالک میں پاکستانی انڈے منفی فہرست کا حصہ بنے ہوئے ہیں۔ انہوں نے حکومت سے پرزور مطالبہ کیا کہ متعلقہ ممالک میں سفارتی سطح پر رابطہ کر کے یہ پابندیاں ختم کرائی جائیں اور سعودی عرب کا فوڈ لائسنس حاصل کرنے میں پاکستانی کمپنیوں کی معاونت کی جائے۔

صنعتی نمائندوں نے مزید بتایا کہ درآمدی سویابین کی بلند قیمت اور پولٹری ادویات پر زیادہ ڈیوٹی بھی لاگت بڑھانے کا سبب بن رہی ہے، جبکہ سوشل میڈیا پر مرغی کے گوشت اور انڈوں سے متعلق پھیلنے والا منفی مواد بھی اس صنعت کے لیے نقصان دہ ہے جس کی روک تھام کے لیے قانون سازی کی ضرورت ہے۔

دوسری جانب، سیکرٹری تجارت جواد پال نے کمیٹی کو آگاہ کیا کہ خلیجی ممالک کے ساتھ تجارت کو فروغ دینے کے لیے سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، بحرین، کویت، قطر اور عمان سمیت تمام چھ خلیجی ممالک کے ساتھ آزاد تجارتی معاہدوں پر تیزی سے کام جاری ہے۔