6

پمز سانحہ، ذمہ داروں کے خلاف کریمنل کیسز بنیں گے، مصطفیٰ کمال

وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے کہا ہے کہ پمز سانحہ کے ذمہ داروں کے خلاف کریمنل کیسز بنائے جائیں گے اور کسی بھی ذمہ دار کو نہیں چھوڑا جائے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم کی قائم کردہ تحقیقاتی کمیٹی گزشتہ رات سے فعال ہے اور 48 گھنٹوں کے اندر اپنی رپورٹ پیش کرے گی، جبکہ آئندہ 24 گھنٹوں میں واقعے کی ابتدائی رپورٹ بھی سامنے آنے کی توقع ہے۔

وفاقی وزیر صحت کے مطابق تحقیقاتی کمیٹی فزیکل اور ڈیجیٹل شواہد سمیت تمام پہلوؤں کا جائزہ لے رہی ہے تاکہ یہ معلوم ہوسکے کہ سانحہ کس طرح پیش آیا اور اس کا ذمہ دار کون ہے۔

مصطفیٰ کمال نے واضح کیا کہ پمز واقعے کی تحقیقات کیلئے وزیراعظم کی قائم کردہ کمیٹی ہی واحد مجاز کمیٹی ہے اور اسی کی رپورٹ کو حتمی سمجھا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ تحقیقاتی رپورٹ سامنے آنے کے بعد تمام حقائق قوم کے سامنے رکھے جائیں گے اور جو افراد مجرمانہ غفلت کے مرتکب پائے گئے، ان کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

واضح رہے کہ 26 اگست کو پمز کے مدر اینڈ چائلڈ اسپتال کی نرسری میں خوفناک آتشزدگی کے نتیجے میں 14 نومولود بچے جاں بحق ہوگئے تھے جبکہ ایک بچے کو زندہ بچا لیا گیا تھا۔

واقعے کی وجہ سے متعلق ابتدائی طور پر مختلف معلومات سامنے آئی ہیں، تاہم حتمی وجہ وزیراعظم کی قائم کردہ تحقیقاتی کمیٹی کی رپورٹ کے بعد سامنے آئے گی۔

وزیراعظم شہباز شریف نے واقعے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے وفاقی سیکرٹری صحت کو معطل کیا اور اعلیٰ سطحی تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دی۔ کمیٹی کو آتشزدگی کی وجہ، فائر سیفٹی انتظامات، ریسکیو آپریشن اور ممکنہ غفلت کا جائزہ لینے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔