2

عالمی منڈی میں خام تیل مزید مہنگا

عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں ایک بار پھر اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس کے بعد برینٹ خام تیل کی قیمت 94 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرگئی، جبکہ امریکی ڈبلیو ٹی آئی خام تیل 87 ڈالر فی بیرل کی سطح پر پہنچ گیا۔

عالمی مارکیٹ کے تازہ اعداد و شمار کے مطابق امریکی WTI خام تیل کی قیمت 87.06 ڈالر فی بیرل ہوگئی، جس میں 23 سینٹ یعنی 0.26 فیصد اضافہ ہوا۔ برطانوی برینٹ خام تیل 61 سینٹ اضافے کے بعد 94.39 ڈالر فی بیرل پر پہنچ گیا۔

دوسری جانب اماراتی خام تیل کی قیمت 103.50 ڈالر فی بیرل ریکارڈ کی گئی، جس میں 2.42 ڈالر یعنی 2.39 فیصد اضافہ ہوا۔ قدرتی گیس کی قیمت بھی 2.773 ڈالر تک پہنچ گئی۔

رائٹرز کے مطابق عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافے کی بڑی وجہ مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی جغرافیائی و سیاسی کشیدگی اور عالمی سپلائی میں ممکنہ رکاوٹوں کے خدشات ہیں۔

رپورٹس کے مطابق آبنائے ہرمز میں تیل اور دیگر توانائی مصنوعات کی ترسیل معمول سے کم سطح پر ہے، جس کے باعث عالمی سپلائی سے متعلق خدشات بڑھ گئے ہیں۔ ماہرین کے مطابق خطے میں کشیدگی مزید بڑھی تو تیل کی قیمتوں میں مزید تیزی آسکتی ہے۔

حالیہ اضافے کے ساتھ برینٹ خام تیل کی قیمت میں ہفتہ وار بنیاد پر تقریباً 6.39 فیصد جبکہ WTI کی قیمت میں 5.66 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

پاکستان پر ممکنہ اثرات

پاکستان اپنی توانائی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے بڑی مقدار میں پیٹرولیم مصنوعات درآمد کرتا ہے، اس لیے عالمی خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ مقامی قیمتوں پر بھی اثر انداز ہوتا ہے۔

عالمی قیمت، فریٹ، روپے کی قدر، درآمدی لاگت، ٹیکسز اور دیگر اخراجات کے باعث پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں متاثر ہوتی ہیں۔

حکومت نے 21 اگست 2026 سے پیٹرول کی قیمت میں 3.81 روپے فی لیٹر جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 3.59 روپے فی لیٹر اضافہ کیا تھا۔

ماہرین کے مطابق اگر عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں موجودہ بلند سطح پر برقرار رہتی ہیں یا مزید بڑھتی ہیں تو پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں پر مزید دباؤ آنے کا امکان ہے۔