گورنر ہاؤس کراچی میں سیرت کانفرنس کا انعقاد کیا گیا، جس میں مذہبی اسکالرز اور علما کرام نے شرکت کی۔ کانفرنس میں مفتی محمد تقی عثمانی، علامہ سید شہنشاہ حسین نقوی سمیت دیگر مذہبی شخصیات شریک ہوئیں۔
کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے علامہ سید شہنشاہ حسین نقوی نے کہا کہ پاکستان دو قومی نظریے کی بنیاد پر قائم ہوا، اس لیے نوجوانوں کو برداشت، رواداری اور ایک دوسرے کو قبول کرنے کا پیغام دینا ہوگا۔
قاری عثمان نے کہا کہ موجودہ دور میں سیرتِ طیبہ کو زندگی کا حصہ بنانے کی ضرورت ہے۔ ان کے مطابق نوجوانوں میں بے راہ روی کی ایک بڑی وجہ سیرتِ پاک سے دوری ہے، اس لیے نئی نسل کو اسوۂ رسول ﷺ سے روشناس کرانا ضروری ہے۔
پیر سید اظہر شاہ ہمدانی نے کہا کہ پاکستان کی آبادی کا بڑا حصہ نوجوانوں پر مشتمل ہے اور انہیں سیرتِ طیبہ سے جوڑنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ نوجوانوں اور والدین کو مادی مصروفیات کے ساتھ اخلاقی و روحانی تربیت پر بھی توجہ دینی چاہیے۔
مفتی محمد تقی عثمانی نے کہا کہ سیرتِ طیبہ کی رہنمائی صرف پڑھنے اور پڑھانے تک محدود نہیں ہونی چاہیے بلکہ اس پر عملی طور پر بھی عمل کیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ جامعات اور تعلیمی اداروں میں سیرتِ طیبہ کو اہم موضوع کے طور پر شامل کیا جانا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کی کردار سازی کیلئے انہیں سنتِ نبوی ﷺ سے روشناس کرانا ضروری ہے۔ ہر فرد کو روزمرہ زندگی میں اپنا جائزہ لینا چاہیے کہ وہ اسوۂ حسنہ پر کس حد تک عمل کررہا ہے۔
مفتی تقی عثمانی نے سوشل میڈیا پر اختلافات کے دوران گالم گلوچ کے رجحان پر بھی تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ خاندانوں میں باہمی نشست کے لیے وقت نکال کر سیرتِ طیبہ کا مطالعہ کیا جانا چاہیے۔
کانفرنس کے مقررین نے اس عزم کا اظہار کیا کہ نوجوان نسل کی اخلاقی تربیت اور معاشرے میں برداشت، اتحاد اور باہمی احترام کے فروغ کیلئے سیرتِ طیبہ کی تعلیمات کو عام کیا جائے گا۔









