کراچی: سندھ ہائیکورٹ کے آئینی بینچ نے سابق جج سلمان انصاری کی جانب سے پینشن اور دیگر مراعات کے حصول کے لیے دائر کی گئی آئینی درخواست مسترد کر دی ہے۔
جسٹس عدنان کریم اور جسٹس جعفر رضا پر مشتمل دو رکنی آئینی بینچ نے درخواست پر سماعت کی، جس کا تحریری فیصلہ جسٹس جعفر رضا نے جاری کیا۔ درخواست گزار نے عدالت سے استدعا کی تھی کہ انہیں ہائیکورٹ کا جج تسلیم کرتے ہوئے تمام متعلقہ مراعات اور پینشن جاری کرنے کے احکامات دیے جائیں۔
عدالتِ عالیہ نے اپنے فیصلے میں واضح کیا کہ عدالتی نظائر اور ماضی کے فیصلوں کی روشنی میں درخواست گزار پینشن کے حقدار قرار نہیں پاتے۔ فیصلے کے مطابق سلمان انصاری سال 2007 میں ایڈیشنل جج مقرر ہوئے تھے اور انہوں نے پی سی او کے تحت حلف نہیں اٹھایا تھا، بعد ازاں سندھ ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن کیس میں سپریم کورٹ آف پاکستان کے تاریخی فیصلے کے تحت سال 2009 میں انہیں عہدے سے برطرف کر دیا گیا تھا۔









