3

ارضیاتی و ماحولیاتی خطرات سے نمٹنے کے لیے این سی ای جی پشاور اور سی ای آر ڈی کے مابین تاریخی مفاہمتی یادداشت پر دستخط

پشاور: نیشنل سنٹر آف ایکسیلنس ان جیالوجی (این سی ای جی) پشاور اور سنٹر آف ایکسیلنس برائے دیہی ترقی (سی ای آر ڈی) نے سائنسی تحقیق، کمیونٹی استعداد کار میں اضافے اور ارضیاتی و ماحولیاتی خطرات کے تدارک کے لیے باہمی تعاون کی ایک جامع مفاہمت کی یادداشت (ایم او یو) پر دستخط کر دیے ہیں۔

جاری کردہ پریس ریلیز کے مطابق، اس شراکت داری کا بنیادی مقصد سائنسی علوم اور مقامی کمیونٹیز کی عملی تیاریوں کے درمیان موجود خلا کو پُر کرنا ہے۔ معاہدے کے تحت این سی ای جی کی ارضیاتی و ماحولیاتی مہارت کو سی ای آر ڈی کے دیہی ترقی اور فیلڈ موبلائزیشن کے وسیع تجربے کے ساتھ مربوط کیا جائے گا۔ دونوں ادارے زلزلوں، زمینی کٹاؤ (لینڈ سلائیڈنگ)، سیلاب، آبی وسائل کے تحفظ، زرعی پائیداری اور موسمیاتی تبدیلیوں پر مشترکہ ریسرچ کے ساتھ ساتھ جیوگرافک انفارمیشن سسٹم (جی آئی ایس) کی مدد سے خطرات سے دوچار علاقوں کی تفصیلی نقشہ سازی اور رسک اسیسمنٹ کریں گے۔

فریم ورک کے تحت این سی ای جی تکنیکی ڈیٹا سیٹس، لیبارٹری تحقیقات اور سائنسی تجزیے فراہم کرے گا، جبکہ سی ای آر ڈی سائنسی نتائج کو نچلی سطح پر عملی منصوبوں میں تبدیل کرنے، کمیونٹی کی تربیت، قبل از وقت انتباہ کے نظام (ارلی وارننگ سسٹمز) کی ترسیل اور این سی ای جی کے طلبہ کو فیلڈ ریسرچ و فنڈنگ کے مواقع فراہم کرنے میں معاونت کرے گا۔ دونوں اداروں کے نمائندوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ سائنسی علم اور عوامی شمولیت کا یہ ملاپ خطرات سے دوچار آبادیوں کو قدرتی آفات سے محفوظ اور خود انحصار بنانے میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔