4

آبنائے ہرمز میں کشیدگی برقرار؛عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں پھر بڑھ گئیں

آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں کو درپیش سکیورٹی خطرات اور امریکا ایران مذاکرات میں تعطل کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں جولائی کے بعد بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہیں۔

عالمی مارکیٹ میں برینٹ خام تیل کی قیمت 91 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرگئی، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) بھی تقریباً 85 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گیا۔ رائٹرز کے مطابق برینٹ 91.07 ڈالر اور WTI تقریباً 84.99 ڈالر فی بیرل تک پہنچا، جو جولائی کے آخر کے بعد بلند ترین سطح ہے۔

خام تیل کی قیمتوں میں اضافے کی ایک اہم وجہ آبنائے ہرمز میں بڑھتے ہوئے سکیورٹی خدشات ہیں۔ برطانوی میری ٹائم سکیورٹی حکام کے مطابق آبنائے سے باہر نکلنے والے ایک تجارتی جہاز کو نامعلوم سمت سے آنے والے پروجیکٹائل نے نشانہ بنایا، جس سے جہاز کے انجن روم کو نقصان پہنچا اور عملے میں جانی نقصان کی اطلاع سامنے آئی۔ واقعے کی تحقیقات جاری ہیں۔

امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات میں پیش رفت نہ ہونے سے بھی عالمی توانائی مارکیٹ میں بے یقینی بڑھ گئی ہے۔ جنگ بندی کی مدت ختم ہونے کے بعد دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی برقرار ہے، جس کے باعث آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل کی ترسیل کے مستقبل پر خدشات پیدا ہوگئے ہیں۔

آبنائے ہرمز عالمی توانائی کی ترسیل کا ایک انتہائی اہم راستہ ہے، اس لیے یہاں بحری آمدورفت میں رکاوٹ سے عالمی منڈی میں تیل کی رسد اور قیمتوں پر براہ راست اثر پڑتا ہے۔

دوسری جانب سعودی عرب نے آبنائے ہرمز کے اندر سے خام تیل کی ترسیل جاری رکھنے کے لیے فجیرہ کے قریب جہاز سے جہاز میں تیل منتقل کرنے کا متبادل طریقہ استعمال کیا ہے، تاہم یہ انتظام معمول کی ترسیل کا مکمل متبادل نہیں سمجھا جا رہا۔

ماہرین کے مطابق اگر آبنائے ہرمز میں کشیدگی مزید بڑھتی ہے یا بحری آمدورفت طویل عرصے تک متاثر رہتی ہے تو عالمی خام تیل کی قیمتوں پر مزید دباؤ آسکتا ہے۔