6

طالبان کے اقتدار کے پانچ سال: افغانستان سنگین سیاسی، معاشی اور سماجی بحران کا شکار ہے، بلال سروری

کابل: طالبان کے افغانستان میں دوبارہ برسرِ اقتدار آنے کے پانچ برس مکمل ہونے پر ملک کو شدید سیاسی، معاشی، سماجی اور سکیورٹی چیلنجز کا سامنا ہے۔ افغان امور کے ممتاز تجزیہ کار بلال سروری نے ایک بین الاقوامی نشریاتی ادارے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ طالبان کی واپسی کے نتیجے میں افغان جمہوری نظام کا خاتمہ ہوا، شہریوں کی بنیادی آزادیوں کو شدید دھچکا لگا اور لاکھوں نوجوانوں کا مستقبل غیر یقینی صورتحال سے دوچار ہو گیا۔

بلال سروری کے مطابق 2020 کا دوحہ معاہدہ کسی پائیدار امن کے فریم ورک کے بجائے محض امریکی انخلا کا ذریعہ ثابت ہوا، جس میں افغان جمہوریہ کو مکمل طور پر نظرانداز کیا گیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ ملک بظاہر پُرسکون نظر آنے کے باوجود اندرونی سطح پر شدید عدم استحکام اور بحرانوں سے گزر رہا ہے۔

افغان تجزیہ کار نے عالمی برادری اور خطے کے ممالک پر زور دیا کہ وہ زمینی حقائق کا ادراک کرتے ہوئے ایک جامع، پائیدار اور بااعتماد سیاسی عمل کے لیے فوری اور سنجیدہ اقدامات کریں تاکہ افغان عوام کے حقوق اور خوشحال مستقبل کو یقینی بنایا جا سکے۔