4

ملک بھر میں گھی، دودھ اور کوکنگ آئل کے 36 فیصد نمونے غیر معیاری نکلے، نیشنل پرائس مانیٹرنگ کمیٹی کا تشویش کا اظہار

ملک بھر میں فروخت ہونے والے گھی، دودھ اور کوکنگ آئل کی کوالٹی سے متعلق تشویشناک انکشاف سامنے آیا ہے، جہاں لیبارٹری ٹیسٹنگ کے دوران ان اشیائے خوردونوش کے 36 فیصد نمونے صحت کے بین الاقوامی اور قومی معیار پر پورا اترنے میں ناکام رہے۔

وفاقی وزیر احسن اقبال کی زیر صدارت منعقدہ نیشنل پرائس مانیٹرنگ کمیٹی (NPMC) کے اعلیٰ سطحی اجلاس کے دوران جمع کرائی گئی رپورٹ میں بتایا گیا کہ ملک کے مختلف علاقوں سے گھی، دودھ اور کوکنگ آئل کے مجموعی طور پر 491 نمونے حاصل کیے گئے تھے، جن میں سے 176 نمونے مکمل طور پر غیر معیاری پائے گئے۔

تفصیلات کے مطابق، لیبارٹری ٹیسٹنگ کے دوران بناسپتی گھی کے 204 نمونوں میں سے 98 غير معياری نکلے، جبکہ مکسڈ کوکنگ آئل کے 146 نمونوں کی جانچ پڑتال پر 40 نمونے ناقص اور صحت کے لیے مضر ثابت ہوئے۔

وفاقی وزیر احسن اقبال نے بازاروں میں کھلے عام دستیاب اور پیک شدہ گھی و آئل کی ناقص کوالٹی پر سخت برہم اور تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایسے ناپائیدار اور غیر معیاری مصنوعات کے روزمرہ استعمال کی وجہ سے ملک کے نوجوانوں میں دل کے امراض اور دیگر مہلک بیماریاں تیزی سے پھیل رہی ہیں۔

صورتحال کی سنگینی کو مدنظر رکھتے ہوئے نیشنل پرائس مانیٹرنگ کمیٹی نے فوری طور پر ملک بھر میں کھلے خوردنی تیل، گھی اور دودھ کا جامع سروے کروانے کی ہدایت جاری کی ہے۔ اس کے علاوہ تمام صوبائی حکومتوں، علاقائی انتظامیہ اور متعلقہ فوڈ اینڈ ریگولیٹری اتھارٹیز کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ غیر معیاری اشیائے خوردونوش کی سخت چیکنگ اور کریک ڈاؤن کا دائرہ کار فوری طور پر وسیع کریں۔