آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) نے ملک بھر کے تمام فلنگ اسٹیشنز پر پیٹرولیم مصنوعات کی آمد، فروخت اور دستیاب اسٹاک کی ریئل ٹائم مانیٹرنگ کا جدید ڈیجیٹل نظام نافذ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس نظام کا بنیادی مقصد ملک میں تیل کی مصنوعی قلت، ذخیرہ اندوزی، اسمگلنگ اور اسٹاک میں ہیر پھیر کا خاتمہ کرنا ہے، جبکہ اس کی مدد سے مستقبل میں حکومت کے کسی بھی سبسڈی پروگرام کو انتہائی شفاف انداز میں چلانے میں مدد ملے گی۔
تاہم، اس اقدام کے ساتھ ساتھ اوگرا نے تمام پیٹرول پمپس کے لیے ایک مخصوص کمپنی کے تیار کردہ دو اسمارٹ فونز کا استعمال لازمی قرار دے دیا ہے، جن پر ایک خاص مانیٹرنگ ایپ نصب کی گئی ہے۔ متعلقہ آئل مارکیٹنگ کمپنیوں (OMCs) کو اس ڈیجیٹل میکانزم پر عمل درآمد کی ذمہ داری سونپی گئی ہے، جس کے تحت پمپ مالکان سے فی موبائل تقریباً 72 ہزار روپے وصول کیے گئے ہیں۔
اس فیصلے پر پیٹرول پمپ مالکان اور ڈیلرز نے شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ انہیں یہ خاص اسمارٹ فونز خریدنے پر مجبور کیا گیا ہے۔ ڈیلرز کے مطابق آئل مارکیٹنگ کمپنیوں نے تقریباً 25 سے 26 ہزار موبائل فونز فراہم کیے، جس سے ایک ہی مخصوص کمپنی کو 80 سے 90 کروڑ روپے کا فوری فائدہ پہنچایا گیا۔
پمپ مالکان نے سوال اٹھایا ہے کہ ہر فلنگ اسٹیشن سے 72 ہزار روپے کی رقم کس قانونی اختیار کے تحت کاٹی گئی، اس کی منظوری کس نے دی اور اس کا مکمل حساب کتاب ڈیلرز اور عوام کے سامنے کب لایا جائے گا؟ ان کا مزید کہنا تھا کہ اگر اوگرا کی ڈیجیٹل ایپ ہر عام اسمارٹ فون پر ڈاؤن لوڈ ہو سکتی تھی تو ڈیلرز پر یہ اضافی مالی بوجھ کیوں ڈالا گیا؟ اطلاعات کے مطابق یہ سفارشات وزارتِ انفارمیشن ٹیکنالوجی کی جانب سے دی گئی تھیں جس پر اوگرا نے عمل درآمد کرایا، لیکن بظاہر یہ عمل ایک مخصوص کمپنی کو نوازنے کی کوشش دکھائی دیتا ہے۔









