5

مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی آبادکاروں نے عبادت گاہوں کو آگ لگا دی

مقبوضہ مغربی کنارے میں دو مساجد کو نذرِ آتش کیے جانے کے بعد علاقے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔ فلسطینی حکام نے الزام عائد کیا ہے کہ دونوں واقعات میں اسرائیلی آبادکار ملوث تھے۔

غیر ملکی خبر رساں اداروں کے مطابق پہلا واقعہ نابلس کے جنوب میں واقع قصبہ قصرہ میں پیش آیا، جہاں زیرِ تعمیر مسجد کو آگ لگا دی گئی۔ مقامی حکام کا کہنا ہے کہ آتشزدگی سے مسجد کے مرکزی دروازے، داخلی حصے اور پتھروں سے بنی دیواروں کو نقصان پہنچا۔

قصبے کے میئر عبدال عظیم وادی کے مطابق حملہ آوروں نے مسجد کی دیواروں پر عبرانی زبان میں نعرے بھی تحریر کیے، جن میں "انتقام" جیسے الفاظ شامل تھے، جس سے واقعے کی حساسیت میں مزید اضافہ ہوگیا۔

دوسری جانب اسرائیلی فوج نے تصدیق کی ہے کہ مسجد میں آگ لگنے کی اطلاع ملنے پر اہلکار موقع پر پہنچے، تاہم مبینہ حملہ آور فرار ہو چکے تھے۔ فوج کے مطابق جائے وقوعہ سے آتشزدگی اور دیواروں پر تحریر کیے گئے نعروں کے شواہد ملے ہیں، جبکہ اسرائیلی پولیس نے واقعے کی تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔

ادھر فلسطینی وزارتِ اوقاف و مذہبی امور نے ایک اور واقعے میں دعویٰ کیا ہے کہ طولکرم کے قریب واقع گاؤں کور میں بھی اسرائیلی آبادکاروں نے ایک مسجد کو آگ لگا دی اور اس کی دیواروں پر نسل پرستانہ نعرے درج کیے۔

یہ واقعات ایسے وقت میں پیش آئے ہیں جب مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں اور آبادکاروں کے حملوں میں مسلسل اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ حالیہ دنوں تل گاؤں میں اسرائیلی آبادکاروں اور فلسطینیوں کے درمیان جھڑپوں کے دوران متعدد افراد ہلاک ہوئے، جس کے بعد اسرائیلی فورسز نے نابلس اور ملحقہ علاقوں میں سرچ آپریشن کرتے ہوئے کئی فلسطینیوں کو حراست میں لے لیا۔

فلسطینی ذرائع کے مطابق اکتوبر 2023 میں غزہ جنگ کے آغاز کے بعد سے مغربی کنارے میں اسرائیلی فوج اور آبادکاروں کی کارروائیوں میں کم از کم 1,097 فلسطینی شہید ہو چکے ہیں، جبکہ خطے میں سیکیورٹی صورتحال بدستور انتہائی کشیدہ ہے۔