5

کینسر کے علاج کی 9 ادویات جعلی اور غیر قانونی قرار، مریضوں کی جانوں کو سنگین خطرات

سندھ ڈرگ ٹیسٹنگ لیبارٹری نے موذی مرض کینسر کے علاج میں استعمال ہونے والی 9 مختلف ادویات کو جعلی، غیر معیاری اور غیر رجسٹرڈ قرار دے دیا ہے۔ لیبارٹری کی جانب سے جاری کردہ تشویشناک رپورٹ کے بعد حکام کی جانب سے فوری ایکشن لیا گیا ہے۔

ڈائریکٹر سندھ ڈرگ ٹیسٹنگ لیبارٹری سید عدنان رضوی نے نجی ٹی وی سے ٹیلی فونک گفتگو کرتے ہوئے ہوشربا انکشاف کیا ہے کہ لیبارٹری ٹیسٹ کے دوران بعض کینسر ادویات میں مرض کے علاج کے لیے درکار مطلوبہ فعال اجزا  سرے سے موجود ہی نہیں تھے۔ مزید برآں، کئی ادویات پر ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (ڈریپ) کا رجسٹریشن نمبر بھی درج نہیں پایا گیا۔

انہوں نے بتایا کہ ادویات کی فراہمی کے اس منظم گھن چکر میں بعض ماہرینِ امراضِ کینسر (آنکولوجسٹس) بھی مبینہ طور پر شامل ہیں جو اپنے نسخوں پر مخصوص فارمیسیز کا نام درج کر دیتے ہیں، جس کے باعث کینسر جیسے موذی مرض میں مبتلا مجبور مریض وہیں سے یہ غیر معیاری ادویات خریدنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔

سید عدنان رضوی نے خبردار کیا کہ یہ جعلی اور غیر معیاری ادویات مریضوں کی جان کے لیے انتہائی خطرہ ہیں۔ ان ادویات کے استعمال سے نہ صرف علاج غیر مؤثر ہو جاتا ہے بلکہ بیماری کے مزید بڑھنے اور جان لیوا ثابت ہونے کے خدشات میں بھی بے پناہ اضافہ ہو جاتا ہے۔