94

سرکاری گھروں میں غیرمتعلقہ افراد کے قیام کانوٹس

پشاور۔سپریم کورٹ آف پاکستان نے ملک بھر میں سرکاری رہائش گاہوں میں غیرقانونی طور پر مقیم افراد کے خلاف فوری طورپرکارروائی کے احکامات جاری کردئیے ہیں اوراس حوالے سے رپورٹ سپریم کورٹ میں پیش کرنے کی ہدایت کردی ہے عدالت عظمی کے چیف جسٹس میاں ثاقب نثار ٗ جسٹس فائزعیسی اورجسٹس منصورعلی شاہ پرمشتمل بنچ نے سپریم کورٹ پشاوررجسٹری میں افغان کمشنریٹ میں متعین سرکاری ملازم خاتون کی درخواست کی سماعت کی ۔

اس موقع پر خاتون نے چیف جسٹس کو بتایا کہ افغان کمشنریٹ نے انہیں اپنے سرکاری گھرسے نکال کرگھر منظورنظرفرد کے حوالے کردیاہے جس پرچیف جسٹس نے افغان کمشنرسے استفسارکیاکہ کیا یہ خاتون درست کہہ رہی ہیں؟ اگر ثابت ہوگیا تو آپ کے خلاف کارروائی کریں گے اس موقع پر افغان کمشنرنے جواب دیا کہ وہ حلفا کہتے ہیں ایسی کوئی بات نہیں جس پرفاضل چیف جسٹس نے ملک بھر میں سرکاری گھروں سے غیرقانونی طورپرمقیم افراد کو فوری طورپرنکال کرسپریم کورٹ میں رپورٹ پیش کرنے کاحکم دیاجبکہ خاتون کی درخواست پر چیف سیکرٹری کو معاملے کی تحقیقات کا حکم دیدیا۔