4

مولانا فضل الرحمان کی پی ٹی آئی قیادت سے اہم ملاقات

جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان اور پاکستان تحریک انصاف کی قیادت کے درمیان اہم ملاقات ہوئی ہے، جس میں نئے میثاقِ جمہوریت کی تجویز، ملکی سیاسی صورتحال اور اپوزیشن جماعتوں کے باہمی تعاون پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ پی ٹی آئی نے مولانا فضل الرحمان کی تجویز پر اتفاق کرتے ہوئے اس حوالے سے مشاورت جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق مولانا فضل الرحمان نے وفد کے ہمراہ سینیٹ میں قائد حزب اختلاف علامہ راجہ ناصر عباس سے ملاقات کی۔ اجلاس میں آئینی و جمہوری امور، سیاسی صورتحال اور اپوزیشن جماعتوں کے درمیان تعاون بڑھانے کے امکانات زیرِ بحث آئے۔

ملاقات میں شرکاء نے خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کی مخالفت کرتے ہوئے اسے عوامی حاکمیت اور جمہوری اصولوں کے منافی قرار دیا۔ شرکاء نے پی ٹی آئی کے گرفتار وزیراعلیٰ، صوبائی اسمبلی کے اسپیکر اور اراکین قومی اسمبلی کی گرفتاریوں پر بھی تشویش کا اظہار کیا اور سیاسی قیدیوں کی رہائی سمیت سیاسی آزادیوں کے تحفظ کا مطالبہ کیا۔

نئے میثاقِ جمہوریت کیلئے آل پارٹیز کانفرنس کی تجویز

ملاقات کے دوران مولانا فضل الرحمان کی جانب سے نئے میثاقِ جمہوریت کی تجویز پیش کی گئی، جس کی شرکاء نے حمایت کی۔ اس مقصد کیلئے آل پارٹیز کانفرنس (اے پی سی) بلانے پر بھی تفصیلی مشاورت ہوئی۔

شرکاء نے اس بات پر اتفاق کیا کہ ملک کو درپیش قومی اور سیاسی مسائل کے حل کیلئے سیاسی جماعتوں کے درمیان مشترکہ لائحہ عمل اور مذاکراتی عمل کو آگے بڑھانے کی ضرورت ہے۔

پی ٹی آئی کے وفد میں بیرسٹر گوہر، اسد قیصر، بیرسٹر علی ظفر، عامر محمود ڈوگر، زین قریشی اور آخوندزادہ حسین احمد یوسفزئی شامل تھے، جبکہ جے یو آئی (ف) کے وفد میں سینیٹر کامران مرتضیٰ، میر یونس ظہری اور عثمان بادینی شریک ہوئے۔

پی ٹی آئی قیادت کی مشاورت، اے پی سی کی تاریخ زیرِ غور

مولانا فضل الرحمان سے ملاقات کے بعد پی ٹی آئی قیادت کا الگ اجلاس بھی ہوا، جس میں میثاقِ جمہوریت کی تجویز اور آئندہ کے لائحہ عمل پر غور کیا گیا۔

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے پی ٹی آئی کے چیئرمین بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ چارٹر آف ڈیموکریسی میں شامل شرائط مشاورت سے طے کی جائیں گی۔ ان کے مطابق مولانا فضل الرحمان نے تجویز پیش کی ہے، جس پر پارٹی مشاورت کر رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ملک میں امن ہونا چاہیے اور اس مقصد کیلئے تمام متعلقہ فریقوں کو ساتھ لے کر چلنے کی ضرورت ہے۔ بیرسٹر علی ظفر کا کہنا تھا کہ مشاورت کے بعد ہی تجویز کے حوالے سے آئندہ کا لائحہ عمل طے کیا جائے گا۔

9 یا 10 نومبر کو آل پارٹیز کانفرنس بلانے پر غور

پی ٹی آئی رہنما اسد قیصر نے میڈیا سے گفتگو میں حکومت کی معاشی، انتظامی اور گورننس سے متعلق کارکردگی پر تنقید کی۔ انہوں نے بتایا کہ مولانا فضل الرحمان کی میثاقِ جمہوریت کی تجویز کے تناظر میں آل پارٹیز کانفرنس بلانے پر غور کیا جا رہا ہے۔

اسد قیصر کے مطابق کانفرنس کیلئے 9 یا 10 نومبر کی تاریخوں پر مشاورت جاری ہے، تاہم حتمی تاریخ کا فیصلہ ابھی نہیں ہوا۔

ملاقات اور بعد ازاں ہونے والی مشاورت کو اپوزیشن جماعتوں کے درمیان رابطوں میں پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ تاہم نئے میثاقِ جمہوریت کی شرائط، کانفرنس میں شریک ہونے والی جماعتوں اور آئندہ کے مشترکہ لائحہ عمل کی تفصیلات مشاورت مکمل ہونے کے بعد سامنے آئیں گی۔