5

ایران کا دشمن افواج کو کہیں بھی مفلوج کرنے کی صلاحیت رکھنے کا دعویٰ

ایرانی بحریہ کے کمانڈر شاہرام ایرانی نے امریکا کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران ضرورت پڑنے پر دشمن افواج کو کسی بھی مقام پر مفلوج کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق شاہرام ایرانی نے اپنے بیان میں کہا کہ ایرانی کارروائیوں نے مخالفین کو حیران کیا اور ان کی جنگی صلاحیتوں کو متاثر کیا۔ ان کا دعویٰ تھا کہ ایرانی بحریہ نے دشمن کے جنگی جہازوں کی آپریشنل صلاحیت طویل عرصے تک متاثر کی۔

ایرانی بحریہ کے کمانڈر نے کہا کہ دشمن کو اپنے مقاصد کے حصول سے روکنا ایرانی بحریہ کا بنیادی مشن ہے، جبکہ مخالف افواج کی مسلسل نگرانی کی جارہی ہے۔

جنوبی کوریا کو بھی انتباہ

دوسری جانب ایرانی وزارت خارجہ نے جنوبی کوریا کو خلیج فارس اور آبنائے ہرمز سے دور رہنے کی تنبیہ کردی۔

وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ ایران اور جنوبی کوریا کے تعلقات 64 سال سے زائد عرصے پر محیط ہیں اور یہ باہمی احترام پر مبنی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ایرانی عوام امریکی جارحیت کے خلاف دفاع میں مصروف ہیں، اس لیے خلیج فارس یا آبنائے ہرمز میں کسی بھی ملک کی فوجی موجودگی جارحیت تصور کی جائے گی۔ ان کے مطابق آبنائے ہرمز میں امریکی کارروائیوں میں کسی بھی ملک کی شرکت قابل قبول نہیں۔

اسماعیل بقائی نے کہا کہ کسی بھی خودمختار ملک کو امریکی دباؤ یا دھمکیوں کے سامنے نہیں جھکنا چاہیے۔ ان کے مطابق امریکا نے خطے پر جنگ مسلط کی اور اب اس کے اخراجات پوری دنیا سے وصول کرنے کی توقع کر رہا ہے۔

ترجمان نے دعویٰ کیا کہ امریکا اور اسرائیل کے حملوں سے قبل آبنائے ہرمز مکمل طور پر کھلی تھی، جبکہ موجودہ صورتحال میں تجارتی جہاز رانی متاثر ہوئی اور توانائی کی قیمتوں میں اضافہ ہوا۔

انہوں نے امریکا پر الزام عائد کیا کہ وہ خطے میں پیدا ہونے والے خلل کی ذمہ داری ایران پر ڈالنے کی کوشش کررہا ہے اور اپنی شروع کی گئی جنگ کی وجہ بھی ایران کے طرزِعمل کو قرار دینا چاہتا ہے۔

اسماعیل بقائی نے مزید کہا کہ صرف ایران کو خطے میں افراتفری کا ذمہ دار قرار دینا درست نہیں اور یہ مؤقف قابلِ قبول نہیں۔