7

مکہ معاہدہ امن، سلامتی اور خوشحالی کے لیے ہے، کسی خلاف جارحیت کے لیے نہیں: وزیراعظم شہباز شریف

اسلام آباد (نامہ نگار) وزیراعظم محمد شہباز شریف نے باضابطہ طور پر واضح کیا ہے کہ سعودی عرب اور ترکیہ کے ساتھ ہونے والے 'مکہ معاہدے' کا مقصد قطعی طور پر کوئی جارحیت نہیں بلکہ یہ معاہدہ تینوں برادر ممالک کے درمیان خطے میں پائیدار امن، سلامتی اور خوشحالی کو فروغ دینے کے لیے قائم کیا گیا ہے۔

وفاقی کابینہ کے اہم اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وزیراعظم نے بریفنگ کے دوران بتایا کہ مکہ معاہدہ دراصل پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی معاہدے ہی کی توسیع ہے اور یہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کا مشترکہ دفاعی معاہدہ پہلے سے قائم ملٹی لیٹرل تعاون کا تسلسل ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ حرمین شریفین کا تحفظ پاکستان کے عوام اور مسلح افواج کے لیے سب سے مقدم اور اہم فریضہ ہے، جبکہ اسحاق ڈار نے بھی اس بات کی تصدیق کی کہ یہ معاہدہ مکمل طور پر دفاعی نوعیت کا ہے اور کسی بھی دوسرے ملک کے خلاف کارروائی اس کا مقصد نہیں۔

اجلاس کے دوران وزیراعظم نے آزاد کشمیر کے انتخابات میں پاکستان مسلم لیگ (ن) کی واضح کامیابی پر عوام کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ انتخابی نتائج قائد مسلم لیگ (ن) محمد نواز شریف پر عوام کے غیر متزلزل اعتماد کا مظہر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بعض عناصر نے حالات کو جان بوجھ کر خراب کرنے کی کوشش کی جبکہ مسائل کا حل ہمیشہ بات چیت سے نکلتا ہے۔ وزیراعظم نے دہشت گردی کے خلاف قومی عزم کا دہراتے ہوئے کہا کہ ہمارے بہادر سپوتوں کی عظیم قربانیاں ضائع نہیں جائیں گی اور وطنِ عزیز سے اس ناسور کا مکمل خاتمہ کیا جائے گا۔