10

ایران امریکا کشیدگی؛ عالمی ایوی ایشن انڈسٹری شدید بحران کا شکار

ایران امریکا کشیدگی اور مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ کے باعث پاکستان سمیت دنیا بھر کی ایئر لائنز اور ایوی ایشن انڈسٹری کو شدید مالی نقصان کا سامنا ہے، جبکہ بڑھتی ہوئی جیٹ فیول کی قیمتوں نے فضائی سفر مزید مہنگا کردیا ہے۔

رپورٹس کے مطابق مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے باعث فضائی حدود کی بندش اور پروازوں کے روٹس میں تبدیلی سے عالمی ہوابازی کا نظام شدید متاثر ہوا ہے۔ مسافروں کو فضائی سفر کیلئے 30 سے 35 فیصد تک اضافی اخراجات برداشت کرنا پڑ رہے ہیں۔

آبنائے ہرمز کی بندش سے تجارتی سرگرمیاں بھی متاثر ہوئی ہیں، جس کے باعث تاجروں نے درآمدات اور برآمدات کیلئے ایئر کارگو کا سہارا لیا، تاہم ایئر کارگو کے کرایوں میں بھی 40 سے 50 فیصد تک اضافہ ہوگیا ہے۔

ایوی ایشن ماہرین کے مطابق اگر صورتحال جلد معمول پر نہ آئی تو کئی ایئر لائنز کیلئے اپنے آپریشنز جاری رکھنا مشکل ہوسکتا ہے اور بعض کمپنیوں کو فضائی آپریشنز محدود یا بند کرنے پر مجبور ہونا پڑ سکتا ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق مشرق وسطیٰ کی فضائی حدود میں بار بار تعطل کے باعث عالمی سطح پر 52 ہزار سے زائد پروازیں منسوخ ہوچکی ہیں، جبکہ فضائی آپریشنز میں مجموعی طور پر 50 سے 60 فیصد تک کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔

بحران کے باعث پاکستان سمیت دنیا بھر میں 60 لاکھ سے زائد مسافر براہ راست متاثر ہوئے، جبکہ مختلف ممالک کے ہوائی اڈوں پر بڑی تعداد میں مسافروں کو کئی روز تک مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

ٹریول ایجنٹ ایسوسی ایشن کے مرکزی رہنما ایوب نسیم کے مطابق جیٹ فیول کی قیمتوں میں 65 فیصد سے زائد اضافہ ہوا ہے، جس کے باعث فضائی ٹکٹوں کے کرایوں میں بھی 30 سے 35 فیصد تک اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

خلیجی ممالک کے بڑے فضائی مراکز دبئی، ابوظہبی اور دوحہ میں پروازوں کے شیڈول متاثر ہوئے، جبکہ متعدد ایئر لائنز کو اپنے فضائی آپریشنز میں نمایاں کمی کرنا پڑی۔

پاکستان میں بھی خلیجی ممالک اور سعودی عرب کیلئے پروازوں میں تاخیر اور کرایوں میں اضافے کے باعث مسافروں کو مشکلات کا سامنا ہے۔ لاہور، کراچی اور اسلام آباد سمیت بڑے ہوائی اڈوں سے روزانہ کی بنیاد پر ہونے والی پروازوں کا نظام بھی علاقائی صورتحال سے متاثر ہوا ہے۔

 ایوی ایشن ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر مشرق وسطیٰ کی صورتحال جلد معمول پر نہ آئی اور فضائی راستے بحال نہ ہوئے تو عالمی ایوی ایشن انڈسٹری کو مزید بڑے مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔