شہر قائد کے علاقے مہران ٹاؤن میں دکان سے برآمد ہونے والے ’شیطانی شکل‘ کے مجسمے کے معاملے نے سوشل میڈیا پر ہلچل مچادی تھی، تاہم پولیس کی کارروائی کے بعد اس کا راز کھل گیا۔
کورنگی صنعتی ایریا کی پولیس نے فوری ایکشن لیتے ہوئے مجسمے کو قبضے میں لے کر تھانے منتقل کر دیا۔ کارروائی کے دوران دکاندار موجود نہیں تھا، لیکن کچھ دیر بعد مجسمہ بنانے والے کاریگر کو بھی گرفتار کر لیا گیا۔
پولیس کے مطابق تھرمو پول سے بنایا گیا یہ مجسمہ مذہبی اسکالر کی ہدایت پر تیار کیا گیا تھا اور اسے یوم القدس کے جلوس میں احتجاج کے طور پر نذرآتش کرنا تھا۔
دکاندار عمران نے پولیس کو بتایا کہ علامہ صاحب نے انہیں جمعہ کے روز مجسمہ جلوس میں جلانے کی ہدایت دی تھی۔
پولیس نے مجسمہ ساز کا وضاحتی بیان ریکارڈ کرنے کے بعد اسے جانے کی اجازت دے دی، جبکہ مجسمے کی حقیقت سامنے آنے کے بعد شہریوں میں پھیلنے والے خوف اور قیاس آرائیوں کا خاتمہ ہو گیا۔









