65

یونیورسٹیوں میں اے آئی کا تین کریڈٹ آور کورس لازمی، چیئرمین ایچ ای سی

چیئرمین ہائر ایجوکیشن کمیشن (HEC) Professor Niaz Ahmed Akhtar نے اعلان کیا ہے کہ پاکستان کی تمام یونیورسٹیوں میں انڈرگریجویٹ سطح پر مصنوعی ذہانت (Artificial Intelligence) کا تین کریڈٹ آور کورس لازمی قرار دیا جا رہا ہے۔ اس اقدام کا مقصد طلبہ کو ڈیجیٹل معیشت کے تقاضوں کے مطابق تیار کرنا ہے۔

 

پروفیسر نیاز احمد اختر نے کہا کہ ایچ ای سی ملک میں اعلیٰ تعلیم کے شعبے میں جامع اصلاحات کے لیے پرعزم ہے اور جامعات کو قومی ضروریات اور عالمی رجحانات کے مطابق ڈھالنے کے لیے اہم اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ یونیورسٹی تعلیم کو مؤثر اور نتیجہ خیز بنانے کے لیے آؤٹ کم بیسڈ ایجوکیشن کمیٹی بھی قائم کی گئی ہے، جو نصاب، تعلیمی نتائج اور امتحانی نظام میں بہتری کے لیے سفارشات مرتب کرے گی۔

ریسرچ، انوویشن اور کمرشلائزیشن دفاتر کو مضبوط بنانے کے لیے خصوصی کمیٹی بھی قائم کی گئی ہے تاکہ صنعت اور جامعات کے درمیان تعاون کو فروغ دیا جا سکے اور تحقیقی منصوبوں کو تجارتی شکل دی جا سکے۔ اسی طرح ڈگری اور دیگر دستاویزات کی تصدیق کا نظام مکمل طور پر آن لائن کیا جا رہا ہے، جس سے طلبہ کو HEC دفاتر آنے کی ضرورت نہیں ہوگی۔

چیئرمین ایچ ای سی نے بتایا کہ پاکستانی جامعات کی عالمی درجہ بندی بہتر بنانے کے لیے رینکنگ کمیٹی قائم کی گئی ہے، جو یونیورسٹیوں کو عالمی معیار کے مطابق اپنی کارکردگی بہتر بنانے کی رہنمائی فراہم کرے گی۔ اعلیٰ تعلیم کے شعبے میں اصلاحات کے لیے صوبائی سطح پر بھی خصوصی کمیٹیاں بنائی جا رہی ہیں، جن میں وائس چانسلرز، صوبائی ایچ ای سیز اور ہائر ایجوکیشن ڈپارٹمنٹس کے نمائندے شامل ہیں۔

ایچ ای سی انجینئرنگ، میڈیکل اور زراعت کے ڈگری پروگرامز کے معیار کا بھی جائزہ لے گا تاکہ عالمی معیار کے مطابق تعلیمی پروگرامز میں بہتری لائی جا سکے۔ اس کے علاوہ، انڈرگریجویٹ داخلوں کے لیے ٹیسٹنگ سسٹم کو مزید شفاف اور معیاری بنانے پر بھی کام جاری ہے، کیونکہ کسی بھی یونیورسٹی کے گریجویٹس کا معیار اس کے داخلہ لینے والے طلبہ کے معیار سے جڑا ہوتا ہے۔

نئی جامعات کے قیام کے لیے قانون سازی سے قبل HEC سے NOC حاصل کرنا لازمی ہوگا اور جامعات کو ہدایت کی گئی ہے کہ خالی انتظامی عہدے فوری طور پر پر کیے جائیں تاکہ تعلیمی نظام مؤثر انداز میں چل سکے۔ حکومتی لیپ ٹاپ اسکیم کے تحت اب تک 65 ہزار لیپ ٹاپ طلبہ میں تقسیم کیے جا چکے ہیں اور باقی بھی جلد تقسیم کیے جائیں گے۔

پروفیسر نیاز احمد اختر نے مزید کہا کہ جامعات میں اطلاقی تحقیق اور انٹرپرینیورشپ کو فروغ دینے کے اقدامات تیز کیے جا رہے ہیں تاکہ تحقیقی منصوبوں کو عملی حل، نئی مصنوعات اور معاشی مواقع میں تبدیل کیا جا سکے۔