7

گوگل میپس: کیمپنگ کی منصوبہ بندی کرنے والے شخص نے 39 کروڑ سال پرانا سیارچے کا گڑھا دریافت کر لیا

گوگل میپس جہاں لوگ اپنے روزمرہ سفر اور راستوں کی نشاندہی کے لیے استعمال کرتے ہیں، وہیں کینیڈا میں ایک شوکیہ فلکیات دان کی پیشگی منصوبہ بندی نے سائنسدانوں کو کروڑوں سال پرانی تاریخی دریافت تک پہنچا دیا ہے۔

کینیڈا کے صوبے کیوبیک کے رہائشی جوئیل لاپونیٹ نے کیمپنگ ٹرپ کی منصوبہ بندی کے دوران گوگل میپس کے سیٹلائٹ امیجز پر 'مارسل جھیل'  کے قریب ایک پراسرار اور عجیب ساخت کے گڑھے کی نشاندہی کی تھی۔ اس گڑھے کی گولائی اور ساخت سے ظاہر ہوتا تھا کہ یہ قدرتی طور پر وجود میں نہیں آیا، جس کے بعد انہوں نے فرانسیسی سائنسدان پیرے روچٹ  سے رابطہ کیا۔

سائنسدانوں نے ابتداء میں علاقے سے حاصل شدہ نمونوں کا تجزیہ کیا جس میں زرقون  نامی منرل ملا، جو عموماً سیارچے کے ٹکراؤ سے پیدا ہونے والے شدید دباؤ کے دوران بنتا ہے۔

اس کے بعد ویسٹرن یونیورسٹی کی تحقیقی ٹیم اور ماہرینِ ارضیات نے خود اس دور دراز علاقے کا دورہ کیا۔ ٹیم نے وہاں درج ذیل اہم شواہد دریافت کیے:

  • شاک ویوز کی لکیریں: چٹانوں کی سطح پر ایسے نشانات جو صرف شدید ترین دباؤ اور دھماکے سے بنتے ہیں۔

  • پگھلی ہوئی چٹانیں: سیارچے کے ٹکراؤ سے پیدا ہونے والے انتہائی درجہ حرارت کے باعث پگھل کر بننے والی پہاڑیاں۔

تحقیقی ٹیم نے حتمی تجزیے کے بعد تصدیق کر دی ہے کہ یہ 15 کلومیٹر قطر کا گڑھا آج سے تقریباً 39 کروڑ (390 ملین) سال قبل ایک عظیم الشان سیارچےکے زمین سے ٹکرانے کی وجہ سے بنا تھا، جو سائنس اور ارضیات کی دنیا میں ایک اہم پیش رفت ہے۔