13

ایران امریکا جنگ اثرات: ملک بھر کے ایئرپورٹس پر کارگو بحران

لاہور: ایران اور امریکا کے درمیان جاری کشیدگی نے فضائی نظام کو شدید متاثر کر دیا ہے، جس کے باعث ملک بھر کے ایئرپورٹس پر ایئر کارگو سروس تقریباً معطل ہو کر رہ گئی ہے۔ سب سے زیادہ اثرات علامہ اقبال انٹرنیشنل ایئرپورٹ سمیت بڑے ہوائی اڈوں پر دیکھنے میں آ رہے ہیں جہاں سیکڑوں ٹن سامان گوداموں میں جمع ہو چکا ہے۔

تفصیلات کے مطابق مشرقِ وسطیٰ جانے والی کھانے پینے کی اشیاء، پھل، سبزیاں، گوشت اور دیگر تجارتی سامان گزشتہ پانچ روز سے روانہ نہیں ہو سکا۔ لاہور کے علاوہ اسلام آباد، کراچی، ملتان، فیصل آباد اور سیالکوٹ سے بھی ایئر کارگو کے ذریعے بھیجا جانے والا سامان ایئرپورٹس کے ویئر ہاؤسز میں رکا ہوا ہے۔

ذرائع کے مطابق لاہور ایئرپورٹ سے روزانہ 200 سے 300 ٹن سامان دبئی، ابوظبی، شارجہ، بحرین، کویت، قطر اور سعودی عرب سمیت دیگر ممالک بھیجا جاتا تھا، تاہم فضائی آپریشن متاثر ہونے کے باعث برآمد کنندگان شدید پریشانی کا شکار ہیں۔ سب سے زیادہ نقصان گوشت، پھل اور سبزیاں برآمد کرنے والے ایکسپورٹرز کو ہو رہا ہے۔

کسٹمز کلیئرنگ ایجنٹس کا کہنا ہے کہ گزشتہ پانچ روز سے نہ کوئی شپمنٹ آئی ہے اور نہ ہی روانہ ہوئی ہے، جس کے باعث سینکڑوں افراد بے روزگاری کے خطرے سے دوچار ہیں۔ لاہور ایئرپورٹ پر تقریباً 60 سے 70 کلیئرنگ ایجنٹس روزانہ سینکڑوں ٹن سامان کلیئر کرتے تھے جو اب مکمل طور پر رکا ہوا ہے۔

دوسری جانب ایئر کارگو سروس فراہم کرنے والی کمپنیوں نے کرایوں میں دوگنا اور بعض کیسز میں تین گنا تک اضافہ کر دیا ہے۔ کمپنی ڈائریکٹرز کے مطابق بکنگ ہونے کے باوجود پروازیں عین وقت پر منسوخ ہو گئیں، جس کے باعث سامان دفاتر اور شیڈز میں پڑا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ موجودہ ریٹس پر سامان بھیجنا ممکن نہیں کیونکہ کارگو چارجز بعض اوقات سامان کی قیمت سے بھی زیادہ ہو چکے ہیں۔

ایئرپورٹ ذرائع کے مطابق گزشتہ پانچ روز کے دوران ملکی و غیر ملکی ایئرلائنز کی سات سو سے زائد پروازیں منسوخ ہو چکی ہیں، جن کے ذریعے زیادہ تر کارگو منتقل کیا جاتا تھا۔ یورپ، امریکا اور کینیڈا کے لیے محدود شپمنٹس بھیجی گئی ہیں، وہ بھی ڈبل ریٹس پر۔

ایکسپورٹرز نے حکومت سے فوری مداخلت کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایئرلائنز کے ساتھ مشاورت کر کے کم از کم کارگو سروس بحال کی جائے، بصورت دیگر پھل، سبزیاں اور گوشت جیسی اشیاء خراب ہو کر کروڑوں ڈالر کا نقصان کر سکتی ہیں، جبکہ کسٹمز ڈیوٹی اور ٹیکسز کی مد میں بھی حکومت کو اربوں روپے کا خسارہ برداشت کرنا پڑ سکتا ہے۔

کاروباری حلقوں نے خبردار کیا ہے کہ اگر چند روز میں فضائی روٹس بحال نہ ہوئے تو حالات مزید سنگین ہو سکتے ہیں اور ایئر کارگو سے وابستہ ہزاروں خاندانوں کا روزگار خطرے میں پڑ جائے گا۔