27

پاکستان بمقابلہ بھارت: مصنوعی ذہانت کے شعبے میں پاکستانیوں نے بھارت کو پیچھے چھوڑ دیا

اسلام آباد: مصنوعی ذہانت (AI) اب محض مستقبل کی ٹیکنالوجی نہیں، بلکہ قومی انتظامی صلاحیت اور ریاستی نظم و ضبط کا پیمانہ بن چکی ہے۔ سال 2026 میں پاکستان اور بھارت نے عالمی سطح پر اپنی AI قیادت ثابت کرنے کے لیے میدان سجایا، لیکن دونوں ممالک کے نتائج میں واضح فرق سامنے آیا۔

بھارت نے نئی دہلی میں AI Impact Summit کا انعقاد کیا تاکہ دنیا کو اپنی تکنیکی برتری دکھائی جا سکے۔ تاہم ایونٹ کے آغاز سے ہی بدانتظامی نے اثر ڈالا: ہزاروں شرکاء رجسٹریشن کے باوجود دروازوں پر خوار رہے، سیکیورٹی کے نام پر گیٹس بند کیے گئے، اور انٹرنیٹ جیسے بنیادی انفراسٹرکچر ناکام ہو گئے۔ اسٹارٹ اپس کے آلات بھی غائب ہونے کی شکایات آئیں اور ملک کے آئی ٹی وزیر کو عوامی سطح پر معذرت کرنی پڑی۔ سوشل میڈیا پر غصے کی لہر نے ایونٹ کے مقصد یعنی ‘AI مباحث’ کو پس منظر میں دھکیل دیا، اور بھارت کا دعویٰ بدانتظامی کے ملبے تلے دب گیا۔

دوسری جانب، پاکستان نے Indus AI Week کے ذریعے ایک مربوط حکمت عملی اپنائی۔ ملک کے 30 شہروں میں 95 سے زائد ایونٹس کا جال قائم کیا گیا، اور پورے ہفتے کے دوران کسی بھی مقام سے بدانتظامی یا تکنیکی خرابی کی شکایت نہیں آئی۔

پاکستان کی کامیابی کا راز اس کی ادارہ جاتی ہم آہنگی اور مضبوط نظام میں تھا: تمام سیشنز بلا رکاوٹ جاری رہے، ڈیجیٹل سسٹمز بلاتعطل کام کرتے رہے، اور ماہرین پرسکون ماحول میں پالیسی سازی پر توجہ مرکوز رکھ سکے۔ اس نے ثابت کیا کہ اے آئی قیادت صرف بڑے ہالز یا مہمانوں کی موجودگی سے حاصل نہیں ہوتی، بلکہ ایک مربوط نظام اور اس کے کامیاب نفاذ سے ممکن ہے۔

بھارت نے ایونٹ میں بڑے پیمانے پر نمائش اور عددی برتری دکھانے کی کوشش کی، لیکن بدانتظامی اور تکنیکی ناکامی نے اس کی عالمی سطح پر ساکھ متاثر کی۔

پاکستان نے چھوٹے مگر منظم ایونٹس، بلا تعطل سیشنز، اور تعلیمی ہم آہنگی کے ذریعے حقیقی قیادت اور نظم و ضبط کی مثال قائم کی۔

سال 2026 کے ان تجربات نے ایک واضح سبق دیا: “ٹیکنالوجی بغیر انتظام کے محض ایک بوجھ ہے”۔ جہاں بھارت نے سائز اور نمائش پر توجہ دی، پاکستان نے ‘سسٹمز’ اور نفاذ کی طاقت سے عالمی معیار پر اپنی ذمہ دار قیادت منوائی۔ آنے والے وقت میں دنیا اس ملک پر بھروسہ کرے گی جو مستحکم نظام، موثر پالیسی نفاذ، اور عام آدمی کے لیے سہولت فراہم کر سکے۔

پاکستان کی یہ کامیابی یہ ثابت کرتی ہے کہ مستقبل کی AI دوڑ میں اصل فتح ‘نظام اور تیاری’ کی ہوگی، نہ کہ محض ‘شور و غوغا’ کی۔