کن اسمبلی کے رکن شیر افضل نے چیئرمین پی ٹی آئی کے ردعمل پر اپنی وضاحت دیتے ہوئے کہا ہے کہ "محترم بیرسٹر گوہر صاحب، آپ کی بات میرے لیے حکم کی مانند ہے"۔ انہوں نے اس موقع پر زور دیا کہ جھوٹے الزامات سہنا آسان نہیں ہوتا، اور ایک شخص کے لیے اپنی صفائی دینا فطری عمل ہے۔
شیر افضل نے کہا کہ خاموش رہنا بعض اوقات خود پر ظلم محسوس ہوتا ہے، اور دوستی اور احترام کے جذبے میں انہوں نے اپنے ردعمل کو قربان کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا، "ایک ہندو نے اپنے مسلمان دوست کے لیے گائے کا گوشت کھا لیا، محض دوستی اور احترام کے طور پر، اسی طرح میں بھی آپ، شاندانہ اور شہریار آفریدی کے احترام میں اپنی رائے پر قابو پا رہا ہوں"۔
مزید برآں، رمضان المبارک کے مقدس مہینے میں شیر افضل نے اعلان کیا کہ وہ آئندہ علیمہ خان کے بارے میں نہ اچھا کہے گا نہ برا، اور اس معاملے میں کسی کو شکایت کا موقع نہیں دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا، "میرا وعدہ میرا قرض ہوتا ہے"، جس سے ان کے وقار اور اخلاقی موقف کی جھلک ملتی ہے۔
یہ اعلان سیاسی حلقوں میں بحث اور شائقین سیاست کے درمیان دلچسپی کا باعث بنا ہوا ہے، اور شیر افضل کے مؤدبانہ ردعمل نے عوام کے دل میں ان کے لیے عزت مزید بڑھا دی ہے۔









