پشاور میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے کہا کہ اگر وہ چاہیں تو انہیں کوئی نہیں روک سکتا، تاہم وہ تصادم کی سیاست کو ترجیح نہیں دیتے۔ انہوں نے صحافیوں کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ پشاور پریس کلب جمہوری اقدار کی اعلیٰ مثال ہے اور یہاں کے صحافی مشکل حالات میں بھی ذمہ داری اور اخلاق کے دائرے میں رہ کر تنقید کرتے ہیں۔
سہیل آفریدی نے بانی پی ٹی آئی کی صحت کے حوالے سے بتایا کہ چار سے پانچ روز تک دھرنا دیا گیا، مگر اس معاملے پر سیاست نہیں کی گئی۔ انہوں نے سابق وزیر اعظم پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ علاج کے لیے بیرون ملک گئے اور طویل عرصے بعد واپس آئے، جبکہ ان کے لیڈر نے زخمی ہونے کے باوجود عدالتوں میں پیشیاں بھگتیں۔
وزیر اعلیٰ نے تیراہ کے لیے 4 ارب روپے کی منظوری کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس پر اعتراضات اٹھائے گئے، جبکہ کسی وزیر اعلیٰ کی جانب سے 11 ارب روپے کے طیارے کی خریداری پر کوئی آواز نہیں آئی۔ سہیل آفریدی نے واضح کیا کہ یہ قومی خزانے کا پیسہ ہے اور وفاق خیبر پختونخوا کو اس کا حق ادا کرے گا، جسے ہر صورت حاصل کیا جائے گا۔
انہوں نے سیاسی ماحول کے حوالے سے کہا کہ صوبے کا ماحول دیگر صوبوں سے مختلف ہے اور صحافیوں کی مثبت تنقید کو خوش دلی سے قبول کیا جاتا ہے، جس سے جمہوریت مضبوط اور شفاف رہتی ہے۔









