73

صارفین کے اوپر گیس چوری کا بوجھ، سوئی گیس حکام کا اعتراف

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی توانائی کے اجلاس میں سوئی گیس حکام نے انکشاف کیا کہ ملک میں ہر سال 60 ارب روپے کی گیس چوری ہوتی ہے، جس میں 30 ارب روپے کا نقصان سوئی ناردرن اور 30 ارب روپے کا نقصان سوئی سدرن سے ہوتا ہے۔ حکام نے بتایا کہ اوگرا کی مقررہ حد تک یہ نقصانات صارفین پر منتقل کیے جاتے ہیں۔

اجلاس میں ایم این اے گل اصغر خان نے کہا کہ صنعتی صارفین گیس چوری کرتے ہیں اور اس کا بوجھ گھریلو صارفین پر ڈالا جاتا ہے۔ سوئی سدرن سے سالانہ 30 بی سی ایف گیس چوری ہو رہی ہے، جو 30 ارب روپے کے نقصان کا باعث بن رہی ہے۔ ترقی یافتہ ممالک میں یہ نقصان صرف 6 فیصد تک محدود ہوتا ہے۔

اجلاس میں پیٹرولیم کمپنیوں کے انرجی ٹریننگ فنڈز پر بھی سوالات اٹھائے گئے۔ نوید قمر نے کہا کہ فنڈ جمع ہونے کے مقصد کے لیے استعمال نہیں ہوا، اور پالیسی سازی کی کمی کی وجہ سے مسائل پیدا ہو رہے ہیں۔ پیٹرولیم حکام نے کہا کہ رقم کے مؤثر استعمال کے لیے پلان تیار کیا جا رہا ہے۔

کمیٹی نے زور دیا کہ گیس چوری روکنے کے اقدامات فوری کیے جائیں اور صارفین پر اضافی بوجھ نہ ڈالا جائے، جبکہ فنڈز کی شفافیت اور مؤثر استعمال یقینی بنایا جائے۔