93

عمران خان کے علاج پر حکومت کا نیا مؤقف سامنے آگیا

اسلام آباد: وفاقی پارلیمانی سیکرٹری اطلاعات بیرسٹر دانیال چوہدری نے کہا ہے کہ اگر بانی پی ٹی آئی عمران خان کو کوئی جان لیوا بیماری لاحق ہو اور اس کے قانونی شواہد موجود ہوں تو ان کی جان بچانے کے لیے انہیں بیرون ملک علاج کی اجازت دی جا سکتی ہے، بصورت دیگر ایسا ممکن نہیں۔

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے واضح کیا کہ عمران خان کی مبینہ ڈیل سے متعلق کوئی بھی بات چیت صرف پارلیمانی قوتوں کے ذریعے ہی ہو سکتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بیرون ملک علاج کا واحد راستہ قانونی شہادت کے تحت جان لیوا بیماری کے ثبوت کی صورت میں ممکن ہوگا۔

بیرسٹر دانیال چوہدری نے کہا کہ عمران خان کے علاج کے لیے تمام ضروری طبی سہولیات جیل میں فراہم کی جا رہی ہیں اور آئندہ بھی جاری رہیں گی۔ انہوں نے اس تاثر کو مسترد کیا کہ علاج کے معاملے میں کسی قسم کی کوتاہی برتی جا رہی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ حکومت عمران خان کے علاج کے معاملے میں سنجیدہ ہے اور میڈیکل بورڈ کی سفارشات پر مکمل عملدرآمد یقینی بنایا جائے گا۔

سوشل میڈیا پر پھیلائے جانے والے پروپیگنڈے کو مسترد کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ڈیل یا ڈھیل کے خواہشمند عناصر ابتدا سے ایسی کوششیں کرتے رہے ہیں اور مختلف بہانے تلاش کرتے ہیں۔

انہوں نے دو ٹوک مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ اگر بات چیت ہونی ہے تو صرف پارلیمانی راستہ ہی قابل قبول ہوگا۔ بلیک میلنگ، دھرنوں یا دباؤ کی سیاست کو کسی صورت تسلیم نہیں کیا جائے گا کیونکہ ایسے اقدامات سے نہ ملک کو فائدہ ہوتا ہے اور نہ ہی کسی کو ریلیف ملتا ہے۔