38

دردیال سوات کا دو سو سال قدیم لکڑی کا حجرہ، پشتون روایات کی زندہ علامت

سوات: خیبر پختونخوا کے ضلع سوات کے علاقے دردیال میں واقع تقریباً دو سو سال پرانا لکڑی کا حجرہ آج بھی ماضی کی زندہ گواہی کے طور پر موجود ہے۔ یہ تاریخی عمارت روایتی پشتون معاشرت، جرگے کی روایت، مہمان نوازی اور اجتماعی زندگی کا اہم مرکز رہی ہے۔

شیخانوں کے حجرے کے نام سے مشہور اس عمارت کے موجودہ مالک خادم شاہ کے مطابق حجرے کی عمر دو سو برس سے زائد ہے اور اسے اب تک اس کی اصل حالت میں محفوظ رکھا گیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ماضی میں یہ حجرہ گاؤں کی سماجی و ثقافتی سرگرمیوں کا مرکز سمجھا جاتا تھا۔

خادم شاہ نے بتایا کہ ماضی میں شام کے وقت گاؤں کے مشران یہاں جمع ہوتے، سردیوں میں اندر بنی انگیٹھی میں آگ جلائی جاتی اور سب اس کے گرد بیٹھتے تھے۔ اس دور میں ہوٹلوں کا رواج نہیں تھا، اس لیے مہمان بھی یہیں قیام کرتے۔ حجرے میں جرگے منعقد ہوتے، غمی و خوشی کی تقریبات ہوتیں اور اہم اجتماعی فیصلے کیے جاتے تھے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ تعمیر میں زیادہ تر بانڑئی لکڑی استعمال کی گئی ہے اور ستون، چھت اور شہتیر مکمل طور پر لکڑی کے ہیں۔ اُس زمانے میں ڈی پی سی کی جگہ بھی لکڑی ہی استعمال ہوتی تھی۔ ان کے بقول، حجرے کو آج تک نہ رنگ کیا گیا ہے اور نہ ہی اس کی لکڑی تبدیل کی گئی ہے تاکہ یہ اپنی اصل ہیئت میں محفوظ رہے۔

خادم شاہ کے مطابق لکڑی کے ستونوں پر گلکاری مکمل کرنے میں چھ ماہ لگے۔ بزرگوں سے سنا ہے کہ دو کاریگر اس پر کام کرتے تھے اور ان کے ساتھ ایک خاتون بھی تھیں جو ان کے لیے کھانا تیار کرتی تھیں۔ چھ ماہ کی مسلسل محنت کے بعد یہ خوبصورت نقش و نگار مکمل ہوئے جو آج بھی اپنی اصل شکل میں موجود ہیں۔

ماضی میں حجرہ سیکھنے اور اجتماعی مشاورت کی جگہ بھی تھا۔ یہاں زمینداری، کھیتی باڑی اور مویشی پالنے جیسے امور پر گفتگو ہوتی تھی۔ خادم شاہ کے مطابق آج اگر کوئی اکیلا آتا ہے تو موبائل میں مصروف ہو جاتا ہے، لیکن جب دو یا زیادہ افراد جمع ہوں تو روایتی گپ شپ کا سلسلہ پھر شروع ہو جاتا ہے۔

مقامی نوجوان وقار احمد کا کہنا ہے کہ وہ مہینے میں کم از کم ایک بار یہاں ضرور آتے ہیں کیونکہ یہاں انہیں دلی سکون ملتا ہے اور مشران کی صحبت سے بہت کچھ سیکھنے کا موقع ملتا ہے۔ ان کے بقول، سوشل میڈیا کے اس دور میں حجرہ نوجوان نسل کو اپنی تہذیب اور روایات سے جوڑنے کا ذریعہ ہے۔

 

ایک اور نوجوان دلدار خان کے مطابق یہ حجرہ آج بھی زندہ روایت ہے۔ روزانہ شام کو یہاں بیٹھک ہوتی ہے، گپ شپ کے ساتھ کبھی کبھار مشاعرہ بھی منعقد کیا جاتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ایسے حجرے اب کم رہ گئے ہیں اور نوجوان نسل کو ان کی اہمیت کا ادراک ہونا چاہیے کیونکہ یہ ہمارے لیے ایک غیر رسمی درس گاہ کی حیثیت رکھتے ہیں۔

یہ قدیم حجرہ اس حقیقت کی یاد دہانی کراتا ہے کہ ثقافتی ورثہ محض ایک عمارت نہیں بلکہ اجتماعی روایت، تاریخ اور شناخت کا حصہ ہوتا ہے، جسے محفوظ رکھنا ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔