پشاور میں ایک افسوسناک حادثے میں 30 سالہ نوجوان کی موت ہو گئی، جب سڑک پر پھینکی گئی نہری گندگی اور کیچڑ کے باعث اس کی موٹر سائیکل پھسل گئی۔ بتایا گیا ہے کہ یہ گندگی ایک ڈمپر کے ذریعے نہر کی صفائی کے دوران سڑک پر پھینکی گئی تھی، جس کے نتیجے میں نوجوان موقع پر ہی جاں بحق ہوگیا۔
درخواست گزار کا کہنا ہے کہ اس نے کئی بار متعلقہ حکام اور ٹھیکے دار کو سڑک پر گندگی پھینکنے کے بارے میں آگاہ کیا تھا، لیکن کوئی مؤثر کارروائی نہیں کی گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ ٹھیکے داروں کو من پسند طریقے سے کام دیا جاتا ہے، جو نہروں کی صفائی کے نام پر صرف خانہ پُری کرتے ہوئے گندگی اور کیچڑ سڑکوں پر ڈال دیتے ہیں، جس سے نہ صرف ٹریفک کی روانی متاثر ہوتی ہے بلکہ انسانی جانیں بھی خطرے میں پڑ جاتی ہیں۔
مقامی افراد نے صوبائی حکومت پر الزام عائد کیا ہے کہ مختلف محکموں میں کرپشن عروج پر ہے، اور محکمہ ایریگیشن کو مبینہ طور پر کرپشن میں "نمبر ون" قرار دیا جا رہا ہے۔ عوام کا کہنا ہے کہ صفائی مہم صرف کاغذوں تک محدود ہے اور عملی طور پر صورتحال بہت سنگین ہے۔
درخواست گزار نے پولیس سے مطالبہ کیا ہے کہ واقعے کی شفاف تحقیقات کی جائیں اور ذمہ دار ٹھیکے داروں اور متعلقہ افسران کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے تاکہ آئندہ اس نوعیت کے افسوسناک واقعات سے بچا جا سکے۔ علاقے کے مکینوں نے حکومت سے فوری نوٹس لینے اور سڑکوں پر پھینکی جانے والی نہری گندگی کے مسئلے کے حل کے لیے مؤثر حکمت عملی بنانے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔









