صوبائی حکومت نے خواجہ سرا افراد کو ہراسانی، تشدد اور امتیازی سلوک سے بچانے اور ان کی سماجی و معاشی بحالی کے لیے جامع نئی پالیسی متعارف کروا دی ہے۔
پالیسی دستاویزات کے مطابق پہلی بار خواجہ سرا افراد کی معاشی حالت بہتر بنانے کے لیے خصوصی اینڈومینٹ فنڈ قائم کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ بحالی مراکز، سیف ہومز اور کمیونٹی شیلٹرز بھی بنائے جائیں گے تاکہ مستحق افراد کو مؤثر معاونت فراہم کی جا سکے۔
پالیسی میں ٹرانسجینڈر پرسنز ویلفیئر رجسٹری اور باقاعدہ ڈیٹا بیس کی تیاری کو لازمی قرار دیا گیا ہے تاکہ خواجہ سرا افراد کے لیے مختلف اسکیموں اور پروگراموں میں شمولیت کو یقینی بنایا جا سکے۔
صوبائی و قومی سماجی تحفظ پروگراموں، گرانٹس، ہیلتھ انشورنس اسکیموں، اسکل ڈویلپمنٹ پروگرامز اور ایمرجنسی رسپانس اقدامات میں خواجہ سرا افراد کی شمولیت لازمی ہوگی۔ محکمہ سماجی بہبود کو خواجہ سرا افراد کے لیے فوکل ڈیپارٹمنٹ مقرر کیا گیا ہے جو سرکاری خدمات اور اسکیموں میں انضمام کی نگرانی کرے گا۔
پالیسی میں مختلف صوبائی محکموں اور کمیشنوں کو مربوط اقدامات کی پابند بنایا گیا ہے۔ خواجہ سرا افراد کو کیس مینجمنٹ سسٹم، حفاظتی پناہ گاہوں اور خاندانی ثالثی کے نظام میں شامل کرنے کی سفارش بھی کی گئی ہے۔
پولیس کے تربیتی کورسز میں خواجہ سرا افراد کے حقوق سے آگاہی شامل ہوگی اور تھانوں میں ٹرانسجینڈر کوآرڈینیشن ڈیسک قائم کیے جائیں گے۔ ٹرانسپورٹ ڈیپارٹمنٹ میں ڈرائیوروں اور کنڈیکٹرز کے تصدیق شدہ تربیتی پروگرامز میں بھی حساسیت پیدا کرنے کے اقدامات کیے جائیں گے۔
محکمہ صحت، تعلیم اور دیگر متعلقہ اداروں کے لیے بھی خواجہ سرا افراد کی بحالی اور مرکزی دھارے میں شمولیت سے متعلق سفارشات لازمی ہوں گی۔ صوبائی حکومت کا کہنا ہے کہ اس پالیسی کے ذریعے خواجہ سرا برادری کو باعزت اور محفوظ ماحول فراہم کرنے میں اہم پیش رفت ہوگی۔









