روس میں آسمان پر ایک ساتھ چار چاند دکھائی دینے کے حیران کن مناظر نے لوگوں کو ششدر کر دیا، جبکہ اس نایاب فلکیاتی مظہر کی ویڈیوز اور تصاویر سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو گئیں۔
غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق روس کے تاریخی شہر سینٹ پیٹرزبرگ میں رات کے وقت ایک دلکش اور غیر معمولی منظر دیکھا گیا، جہاں اصل چاند کے ساتھ اس کے تین مزید روشن عکس نمودار ہوئے، جس سے یوں محسوس ہوا جیسے آسمان پر ایک ہی وقت میں چار چاند موجود ہوں۔ وائرل ہونے والی فوٹیج میں چاند کے گرد کئی روشن گول دائروں کو واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے، جس نے دیکھنے والوں کو حیرت میں مبتلا کر دیا۔
روس کے سرکاری خبر رساں ادارے آر ٹی (RT) نے بھی اس غیر معمولی منظر کو اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر شیئر کیا، جس کے بعد یہ مظہر عالمی توجہ کا مرکز بن گیا۔
ماہرین فلکیات کے مطابق اس مظہر کو سائنسی اصطلاح میں ’پیراسیلین‘ (Paraselene) کہا جاتا ہے، جسے عام زبان میں ’فرضی چاند‘ یا ’مون ڈاگ‘ بھی کہا جاتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ منظر اس وقت تشکیل پاتا ہے جب سرد موسم میں چاند کی روشنی فضا میں موجود برف کے باریک ذرات سے گزرتی ہے۔ یہ ذرات روشنی کو مخصوص زاویے پر موڑ دیتے ہیں، جس کے نتیجے میں اصل چاند کے اطراف اضافی روشن دھبے نظر آنے لگتے ہیں۔
فلکیاتی ماہرین کے مطابق پیراسیلین عموماً اصل چاند سے 22 ڈگری یا اس سے زیادہ فاصلے پر دکھائی دیتے ہیں اور اصل چاند کے مقابلے میں نسبتاً مدھم ہوتے ہیں۔ یہ مظہر اس وقت زیادہ نمایاں ہوتا ہے جب چاند افق کے قریب ہو، کیونکہ اس دوران چاند کی چمک کم ہو جاتی ہے۔
فلکیاتی ادارے ’اسکائی بریری‘ کے مطابق یہ روشن دھبے ہمیشہ افق کے اوپر چاند کی سطح پر ظاہر ہوتے ہیں اور ان کی شکل و جسامت کا انحصار بادلوں میں موجود برفانی ذرات کے زاویے اور حرکت پر ہوتا ہے۔ بعض اوقات بڑے برفانی ذرات لمبے اور نمایاں روشنی کے ستون بھی بناتے ہیں، جو اس منظر کو مزید ڈرامائی بنا دیتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ پیراسیلین کا تعلق دن کے وقت نظر آنے والے ’سن ڈاگز‘ سے ہوتا ہے، تاہم ایک ہی وقت میں متعدد فرضی چاند دکھائی دینا نہایت کم ہوتا ہے۔ اسی وجہ سے سینٹ پیٹرزبرگ کا یہ منظر منفرد قرار دیا جا رہا ہے، جس نے ایک عام رات کو غیر معمولی اور یادگار بنا دیا۔









