30

دہشت گردی کے نام پر ملنے والے اربوں روپے کہاں گئے؟ خیبرپختونخوا میں بدامنی پر سوالات

پریس کانفرنس کرتے ہوئے ڈاکٹر عباد اللہ نے کہا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کے لیے خیبرپختونخوا کو 800 ارب روپے فراہم کیے گئے، لیکن اس کے باوجود صوبے میں نہ سی ٹی ڈی موجود ہے، نہ فارنزک لیب اور نہ ہی سیف سٹی منصوبہ۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ یہ خطیر رقم آخر کہاں خرچ کی گئی۔

ڈاکٹر عباد اللہ نے کہا کہ صوبے میں امن و امان کی صورتحال مسلسل خراب ہو رہی ہے۔ سردیوں میں آپریشن مشکل ضرور ہے کیونکہ لوگوں کے لیے گھر چھوڑنا آسان نہیں، مگر اس کے علاوہ کوئی اور راستہ بھی نظر نہیں آتا۔ انہوں نے صوبائی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ حکومت ایک طرف آپریشن کی مخالفت کے دعوے کرتی ہے جبکہ دوسری جانب خود ہی آپریشن کے لیے فنڈز فراہم کر رہی ہے۔ ان کے مطابق ایپکس کمیٹی کے اجلاس میں ایک فیصلہ ہوتا ہے اور باہر جا کر اس کے برعکس بات کی جاتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت 8 فروری کو سٹریٹ مارچ کی بات کر رہی ہے حالانکہ خیبرپختونخوا میں انہی کا مینڈیٹ ہے۔ ڈاکٹر عباد اللہ نے چیلنج دیتے ہوئے کہا کہ گزشتہ دو برسوں میں صوبے میں کوئی نیا تعلیمی ادارہ یا ڈسپنسری نہیں بنائی گئی، جبکہ دیگر صوبے ترقی کر رہے ہیں اور خیبرپختونخوا پیچھے کی جانب جا رہا ہے۔

مزید کہنا تھا کہ اس وقت تین افراد پر مشتمل ایک ٹولہ خیبرپختونخوا کو چلا رہا ہے اور صوبے میں کرپشن عام ہو چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ صوبے کے عوام کے ساتھ 13 سال سے زائد عرصے سے ناانصافی ہو رہی ہے جس کا ازالہ اب ناگزیر ہے۔ ڈاکٹر عباد اللہ نے الزام لگایا کہ کابل پر طالبان کے قبضے کے بعد عمران خان نے اسے یومِ فتح قرار دیا، طالبان کو پاکستان لانے والے سہولتکار بھی یہی لوگ ہیں اور دہشت گردوں کو بھتہ دینے کے الزامات بھی موجود ہیں۔

انہوں نے فاٹا ریفارمز کے فنڈز کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس وقت حکومت عمران خان کی تھی، تب یہ سوال کیوں نہیں اٹھایا گیا؟ این ایف سی میں بھی ان کے نمائندے شامل تھے مگر وہاں بھی خاموشی اختیار کی گئی۔

اس موقع پر مرتضیٰ جاوید عباسی نے کہا کہ خیبرپختونخوا حکومت اپنے تمام وسائل وفاق کے خلاف استعمال کر رہی ہے اور صوبے میں دہشت گردی کے خلاف کوئی سنجیدہ کوشش نظر نہیں آتی۔ انہوں نے کہا کہ امن جرگے میں بھی صوبائی حکومت کا کوئی نمائندہ شریک نہیں ہوا۔

مرتضیٰ جاوید عباسی نے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی سے مطالبہ کیا کہ وہ صوبے کے امن و امان پر توجہ دیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس وقت پوری قوم کو متحد ہونے کی ضرورت ہے، خاص طور پر بھارتی خطرات اور ایران سے متعلق امریکی منصوبہ بندی کے تناظر میں۔ تاہم ان کے مطابق خیبرپختونخوا حکومت کا کردار دشمن سے کم نہیں اور وہ قوم میں تقسیم پیدا کر رہی ہے۔