اقوامِ متحدہ کے خصوصی نمائندوں کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کے حوالے سے بھارت سے وضاحت طلب کرنے کی مقررہ ڈیڈ لائن ختم ہوئے 34 دن گزر چکے ہیں، تاہم نئی دہلی کی طرف سے تاحال کوئی باضابطہ جواب سامنے نہیں آیا۔
ذرائع کے مطابق بھارت کو ہدایت دی گئی تھی کہ وہ سندھ طاس معاہدے سے متعلق اپنے حالیہ اقدامات پر 16 دسمبر 2026 تک وضاحت پیش کرے، مگر ڈیڈ لائن گزرنے کے باوجود بھارتی حکومت نے مکمل خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔
اقوامِ متحدہ اب بھی بھارت کے جواب کی منتظر ہے، جبکہ اس اہم معاہدے سے جڑے متعدد سوالات بدستور موجود ہیں۔ بین الاقوامی حلقوں میں بھارت کی مسلسل خاموشی کو تشویش کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے اور یہ معاملہ آہستہ آہستہ عالمی توجہ کا مرکز بنتا جا رہا ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ وضاحت نہ دینا نہ صرف سندھ طاس معاہدے کے مستقبل پر سوالیہ نشان ہے بلکہ اس طرزِ عمل سے بھارت کے بارے میں بین الاقوامی ذمہ داریوں سے گریز کا تاثر بھی مضبوط ہو رہا ہے۔
ماہرین کے مطابق اگر بھارت نے جلد مؤقف واضح نہ کیا تو یہ معاملہ عالمی سطح پر مزید پیچیدہ صورت اختیار کر سکتا ہے، جبکہ سندھ طاس معاہدے کی حیثیت اور علاقائی استحکام پر بھی گہرے اثرات مرتب ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔









