جنوبی پنجاب کے بڑے اضلاع ملتان اور بہاولپور میں نمونیا کے حملوں میں خطرناک حد تک اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران مجموعی طور پر 90 بچے نمونیا کا شکار ہو گئے، جس پر محکمہ صحت میں تشویش کی لہر دوڑ گئی۔
محکمہ صحت کے مطابق ملتان میں 69 بچے نمونیا سے متاثر ہوئے۔ چلڈرن اسپتال ملتان میں 41 بچوں میں نمونیا کی تصدیق ہوئی، نشتر اسپتال میں 16، شہباز شریف اسپتال میں 8 جبکہ ساؤتھ سٹی اسپتال میں 5 بچے رپورٹ ہوئے۔
دوسری جانب بہاولپور میں 21 بچوں میں نمونیا کی تشخیص ہوئی۔ سر صادق عباسی اسپتال میں 9 بچے جبکہ بہاول وکٹوریہ اسپتال میں 11 بچے نمونیا کا شکار پائے گئے۔ حکام کے مطابق بہاول وکٹوریہ اسپتال میں زیر علاج 7 بچوں کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔
طبی ماہرین کے مطابق نمونیا پھیپھڑوں کا ایک خطرناک انفیکشن ہے جو عموماً وائرس کی وجہ سے ہوتا ہے اور نزلہ زکام کے بعد شدت اختیار کر سکتا ہے۔ پانچ سال سے کم عمر بچے اس بیماری سے سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ بچوں میں نمونیا کی بڑی وجوہات میں ماں کے دودھ کی کمی، غذائی قلت، فضائی آلودگی، سرد موسم میں لاپرواہی اور کمزور مدافعتی نظام شامل ہیں۔
نمونیا کی عام علامات میں بلغم والی کھانسی، تیز بخار، سانس لینے میں دشواری، سینے میں درد، شدید کمزوری، بھوک کی کمی اور الٹی شامل ہیں۔ نوزائیدہ بچوں میں دودھ پینے میں مشکل اور غیر معمولی سستی بھی خطرے کی علامت ہو سکتی ہے۔
ڈاکٹرز نے والدین کو ہدایت کی ہے کہ بچوں میں سانس کی تکلیف یا بخار کی صورت میں فوری طور پر قریبی اسپتال سے رجوع کریں، کیونکہ بروقت تشخیص اور علاج ہی جان بچا سکتا ہے۔









