29

ڈی جی آئی ایس پی آر کی صدارت میں قومی پیغامِ امن کمیٹی کی اہم ملاقات

پاک فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری سے قومی پیغامِ امن کمیٹی (NPAC) کے وفد نے جنرل ہیڈکوارٹر (جی ایچ کیو) میں ملاقات کی، جس میں ملک کو درپیش داخلی سلامتی کے چیلنجز پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔

ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق ملاقات میں فتنہ الخوارج، کالعدم ٹی ٹی پی اور ٹی ٹی اے کے تناظر میں سیکیورٹی صورتحال پر جامع گفتگو ہوئی، جس کے نتیجے میں مشترکہ قومی مؤقف مزید مضبوط ہوا۔ ملاقات کے دوران کشمیر اور غزہ کے حوالے سے پاکستان کے اصولی اور اخلاقی مؤقف کی بھرپور توثیق بھی کی گئی۔

لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے اس موقع پر کہا کہ قومی سلامتی کے معاملات میں یکسوئی، بیانیے پر اتفاقِ رائے اور قومی اتحاد وقت کی اہم ترین ضرورت ہے، جبکہ مظلوم اقوام کی حمایت پاکستان کی اخلاقی اور اصولی ذمہ داری ہے۔

ملاقات میں قومی بیانیے کے فروغ کے لیے مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی گئی، پاک افواج کے ساتھ غیر متزلزل یکجہتی کا اظہار کیا گیا اور ریاست دشمن و انتشار پھیلانے والے بیانیوں کے خلاف مشترکہ عزم دہرایا گیا۔

قومی پیغامِ امن کمیٹی نے فتنہ الخوارج اور افغان طالبان کی واضح مذمت کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کا کوئی جواز نہیں اور یہ اسلام، انسانیت اور ریاست کے خلاف جرم ہے۔

این پی اے سی نے اعلان کیا کہ منبر و محراب سے اتحادِ امت، سماجی ہم آہنگی اور آئینی برابری کا پیغام ملک بھر میں عام کیا جائے گا، جبکہ نفرت انگیزی، فرقہ واریت اور تکفیری بیانیے کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی اپنانے پر اتفاق کیا گیا۔

اجلاس میں یہ تجویز بھی دی گئی کہ ریاستی بیانیے کے فروغ کے لیے مساجد، مدارس اور جامعات میں آگاہی نشستوں کا دائرہ وسیع کیا جائے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ دشمن کی نفسیاتی جنگ کے مقابلے کے لیے عوامی شعور اور سچائی پر مبنی بیانیہ سب سے مؤثر ہتھیار ہے۔ ملاقات کو غیر معمولی طور پر مفید قرار دیتے ہوئے اعتماد اور عملی تعاون کے نئے راستوں پر پیشرفت کی امید ظاہر کی گئی۔