پنجاب حکومت نے 40 کلو چینی پر 5 روپے شوگر سیس عائد کر دیا ہے، جس کا باضابطہ نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا گیا ہے۔ اس فیصلے کے بعد خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ چینی کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔
شوگر سیس پنجاب فنانس ایکٹ 1964 کے تحت نافذ کیا گیا ہے، جس کے مطابق اس ٹیکس کا بوجھ شوگر ملز اور کسانوں پر تقسیم کیا جائے گا۔ فی 40 کلو چینی پر ڈھائی روپے شوگر ملز جبکہ ڈھائی روپے کسان ادا کریں گے۔
دوسری جانب صوبے میں چینی کے ساتھ ساتھ گھی، کوکنگ آئل، آٹا، ٹماٹر اور پیاز کی قیمتوں میں بھی اضافہ دیکھا جا رہا ہے، جس سے مہنگائی کا دباؤ مزید بڑھ گیا ہے۔
حکومتی مؤقف کے مطابق شوگر سیس سے حاصل ہونے والی رقم شوگر ملز سے منسلک سڑکوں کی تعمیر اور بہتری پر خرچ کی جائے گی، تاہم عوام کا کہنا ہے کہ ایسے فیصلوں کا براہِ راست اثر عام صارف پر پڑتا ہے۔
ماہرین کے مطابق اگر قیمتوں پر کنٹرول نہ کیا گیا تو آنے والے دنوں میں چینی سمیت دیگر اشیائے خورونوش مزید مہنگی ہو سکتی ہیں، جس سے عوام کی مشکلات میں اضافہ ہونے کا خدشہ ہے۔









