124

انٹرنیٹ پر غلط طبی معلومات جان لیوا ہو سکتی ہیں

لندن: برطانوی اخبار دی گارڈین کی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ گوگل کے مصنوعی ذہانت (AI) پر مبنی سرچ اوورویوز، جو سرچ نتائج کے آغاز میں نمایاں ہوتے ہیں، بعض اوقات غلط اور گمراہ کن طبی معلومات فراہم کر سکتے ہیں، جس سے لوگوں کی صحت اور جان کو سنگین خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔

گوگل کا دعویٰ ہے کہ AI اوورویوز صارفین کے لیے مددگار اور قابلِ اعتماد معلومات فراہم کرتے ہیں، تاہم طبی ماہرین نے دی گارڈین کو متعدد ایسی مثالیں فراہم کیں جنہیں خطرناک اور غلط قرار دیا گیا ہے۔

تحقیق کے مطابق ایک مثال میں گوگل کے AI اوورویو نے لبلبے کے کینسر کے مریضوں کو زیادہ چکنائی والی غذاؤں سے پرہیز کا مشورہ دیا، جبکہ ماہرین کے مطابق یہ مشورہ طبی طور پر غلط ہے اور مریض کی صحت کو مزید نقصان پہنچا سکتا ہے۔

اسی طرح جگر کے فنکشن ٹیسٹ سے متعلق فراہم کی گئی معلومات بھی درست نہیں تھیں، جس کے باعث شدید بیماری میں مبتلا افراد خود کو صحت مند سمجھ سکتے ہیں۔ خواتین کے کینسر ٹیسٹس، خصوصاً پیپ ٹیسٹ کے بارے میں بھی غلط معلومات سامنے آئیں، جہاں بعض سرچ نتائج میں اسے اندام نہانی کے کینسر کا ٹیسٹ قرار دیا گیا، جو حقیقت کے برعکس ہے۔

صحت کے ماہرین اور فلاحی اداروں نے خبردار کیا ہے کہ ایسی غلط معلومات لوگوں کو بروقت علاج سے دور رکھ سکتی ہیں اور بعض صورتوں میں جان لیوا نتائج بھی پیدا کر سکتی ہیں۔

مریضوں کے حقوق کے فورم کی ڈائریکٹر صوفی رینڈل نے کہا کہ گوگل کے AI اوورویوز آن لائن سرچز میں غلط طبی معلومات پیش کر کے صارفین کی صحت کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔ جبکہ میری کیوری چیریٹی کی اسٹیفنی پارکر کے مطابق،
“لوگ مشکل اور پریشانی کے وقت انٹرنیٹ پر انحصار کرتے ہیں، اگر معلومات غلط ہوں تو یہ شدید نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہیں۔”

دی گارڈین کی رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ گوگل کے AI اوورویوز نے نفسیاتی بیماریوں اور کھانے کی عادات سے متعلق بھی بعض اوقات خطرناک اور غیر سائنسی مشورے دیے، جس کے باعث لوگ ضروری طبی مدد لینے سے گریز کر سکتے ہیں۔

گوگل نے اپنے ردعمل میں کہا ہے کہ اس کے زیادہ تر AI اوورویوز درست اور مددگار ہوتے ہیں اور کمپنی معیار کو مزید بہتر بنانے کے لیے کام کر رہی ہے، تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ سرچ نتائج میں موجود یہ غلط معلومات صحت عامہ کے لیے سنگین خطرہ بن سکتی ہیں۔