125

ڈکی بھائی کے خلاف عدالت کا بڑا فیصلہ

معروف یوٹیوبر سعد الرحمٰن المعروف ڈکی بھائی اور ان کی اہلیہ عروب جتوئی پر آن لائن جوئے کی تشہیر کرنے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔ جوڈیشل مجسٹریٹ نعیم وٹو نے اس مقدمے کی سماعت کرتے ہوئے 16 جنوری کو فردِ جرم عائد کرنے کی تاریخ مقرر کر دی ہے۔

تفصیلات کے مطابق، عدالت نے ڈکی بھائی کو اس بات کی وضاحت دی کہ یوٹیوب پر ولاگنگ کرنا بغیر عدالتی اجازت کے غیر قانونی ہے اور اس کے لیے باقاعدہ درخواست دینا ضروری ہے۔ تاہم، ڈکی بھائی نے موقف اختیار کیا کہ انہوں نے گزشتہ سماعت میں جمع کرائے گئے حلف نامے کے ذریعے اجازت حاصل کر لی تھی، لیکن عدالت نے اس پر واضح کیا کہ کسی بھی شخص کو اجازت دینے کا اختیار صرف عدالت کے پاس ہے۔

عدالت نے مزید استفسار کیا کہ آیا ملزم ولاگنگ جاری رکھنا چاہتے ہیں؟ جس پر ڈکی بھائی کے وکیل نے بتایا کہ ان کا مؤکل فی الحال اپنے چینل پر کوئی مواد اپ لوڈ نہیں کر رہا اور اسے یہ بھی نہیں معلوم کہ کس نوعیت کی اجازت درکار ہے۔

مجسٹریٹ نے بتایا کہ ڈکی بھائی کا یوٹیوب چینل مقدمے کا مرکزی نقطہ ہے اور اسے نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) نے ضبط کر لیا ہے۔ عدالت نے کہا کہ ملزمان یوٹیوب چینل پر ویڈیوز اپ لوڈ نہیں کر سکتے، کیوں کہ اس چینل پر پہلے سے غیر قانونی مواد موجود ہے۔

پراسیکیوشن کا کہنا ہے کہ ملزمان نے اپنے یوٹیوب چینل اور دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے ذریعے آن لائن بیٹنگ ایپس کی تشہیر کی اور بڑی تعداد میں صارفین کو متاثر کیا، جو کہ ملکی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔ تحقیقات سے یہ بھی سامنے آیا ہے کہ مواد کے ذریعے بالواسطہ جوئے کی حوصلہ افزائی کی گئی۔

این سی سی آئی اے کی تفتیش کے بعد ملزمان کے خلاف فوجداری کارروائی شروع کی گئی اور یوٹیوب چینل کو منجمد کر دیا گیا تاکہ مزید غیر قانونی سرگرمیوں کو روکا جا سکے۔

عروب جتوئی کو بھی چینل کے مواد کے انتظام اور جوئے کی تشہیر میں مبینہ کردار کے باعث ملزمان میں شامل کیا گیا ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ یہ مقدمہ ثابت کرتا ہے کہ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر مواد بنانے والے افراد اور ان کے اہلِ خانہ بھی پاکستانی سائبر قوانین کے تحت جوابدہ ہو سکتے ہیں۔