103

نوجوان کا عجیب وغریب وجہ پر منگیتر کیخلاف مقدمہ

چین کے صوبے ہیلونگ جیانگ سے ایک غیر معمولی مقدمے کی خبر سامنے آئی ہے جس نے سوشل میڈیا پر ہنگامہ مچا دیا ہے۔ ایک نوجوان نے اپنی منگیتر کے زیادہ کھانا کھانے پر منگنی ختم کرنے کے بعد عدالت سے رجوع کر کے منگنی اور دیگر ذاتی تحائف کی واپسی کا مطالبہ کر دیا۔

غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق نوجوان ہی اور وانگ کی ملاقات ایک رشتہ کروانے والے ذریعے ہوئی تھی اور دونوں نے ایک دوسرے کو پسند کرنے کے بعد منگنی کی۔ مقامی رواج کے مطابق ہی کے خاندان نے وانگ کے خاندان کو 20 ہزار یوان بطور منگنی ادا کیے۔

بعد ازاں دونوں شمالی چین کے صوبے ہیبی میں منتقل ہو گئے جہاں ہی کے خاندان کا مالاٹانگ ریستوران تھا۔ وانگ نے چھ ماہ تک ریستوران میں کام کیا، مگر اس دوران تعلقات میں کشیدگی بڑھنے لگی۔ ہی کے مطابق وانگ صرف آسان کام کرتی تھی اور روزانہ گاہکوں کے لیے بنایا گیا کھانا خود کھا لیتی تھی، جس سے کاروبار اور خاندان دونوں متاثر ہوئے۔

یہ اختلافات آخرکار منگنی ختم کرنے کا سبب بنے، جس کے بعد ہی نے عدالت سے منگنی کی رقم اور تعلقات کے دوران دیے گئے 30 ہزار یوان کے ذاتی تحائف کی واپسی کا مطالبہ کر دیا۔

وانگ نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ وہ ہی کی گرل فرینڈ تھی، ملازمہ نہیں، اور ذاتی نوعیت کے تحائف واپس نہیں لیے جاتے۔ عدالت نے وانگ کے مؤقف کو درست قرار دیتے ہوئے کہا کہ ذاتی تحائف کی واپسی کا مطالبہ جائز نہیں۔ تاہم چونکہ شادی نہیں ہوئی تھی، عدالت نے منگنی کی رقم کا آدھا حصہ واپس کرنے کا حکم دے دیا۔