112

بنگلا دیش میں بھارت مخالف مظاہرے شدت اختیار کر گئے

جنوبی ایشیا میں بھارت کی علاقائی پالیسیوں اور ہندوتوا نظریے کے خلاف ردعمل میں شدت آ رہی ہے۔ حالیہ دنوں میں بنگلا دیش میں بھارت مخالف مظاہروں میں اضافہ دیکھا گیا ہے، جہاں عوام نے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی پالیسیوں اور خطے میں مبینہ مداخلت کے خلاف احتجاج کیا۔

بنگلا دیشی ذرائع کے مطابق، سیاسی کارکن عثمان ہادی کی شہادت کے بعد ملک میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی، اور بعض بنگلا دیشی رہنماؤں کو مبینہ طور پر بھارت سے دھمکیوں کے اطلاعات بھی موصول ہوئی ہیں۔ سوشل میڈیا پر بھارتی فوج کے ریٹائرڈ افسران کی جانب سے بنگلا دیشی نوجوان قیادت کو دی گئی دھمکیوں پر بھی تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔

احتجاجی مظاہروں میں شرکاء کا کہنا تھا کہ بھارت خطے میں بالادستی قائم کرنے کی کوشش کر رہا ہے اور ہمسایہ ممالک کے اندرونی معاملات میں مداخلت کر رہا ہے۔ مظاہرین نے بھارتی خفیہ اداروں کے کردار پر سوالات اٹھائے اور علاقائی خودمختاری کے حق میں نعرے لگائے۔

سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق یہ مظاہرے جنوبی ایشیا میں بھارت کے کردار پر بڑھتے ہوئے عدم اعتماد اور عوامی ردعمل کی عکاسی کرتے ہیں۔ بنگلا دیشی نوجوانوں کی جانب سے لگائے جانے والے نعروں کو خطے میں بدلتے ہوئے سیاسی بیانیے سے جوڑا جا رہا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر خطے میں کشیدگی کم نہ کی گئی تو بھارت اور اس کے ہمسایہ ممالک کے تعلقات مزید پیچیدہ ہو سکتے ہیں، جس کے اثرات علاقائی استحکام پر بھی پڑنے کا خدشہ ہے۔